سپریم کورٹ: چار سالہ بچے کے قتل کے الزام میں سوتیلی ماں کی ضمانت منظور
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے چار سالہ بچے کے قتل کے الزام میں سوتیلی ماں کی ضمانت منظور کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: شاید مستقبل میں اپنا چہرہ اے آئی کو بیچ دوں: احد رضا میر
کیس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق، مدعی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمہ مدعی مقدمہ کی دوسری اہلیہ ہے۔ مدعی کا کہنا ہے کہ وہ بچے کو صحیح سلامت گھر چھوڑ کر گیا تھا، لیکن سکول سے واپسی پر دیکھا کہ گھر میں بچے کی لاش پڑی ہے۔ ملزمہ نے گھریلو جھگڑے کے دوران بچے کو زہریلی چیز کھلا کر گلا دبایا۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی تحقیقاتی ادارے نے بھارت کے کتنے جعلی نیوز نیٹ ورکس بے نقاب کیے؟ مشاہد حسین کا تہلکہ خیز انکشاف
مدافع کا موقف
ملزمہ کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ملزمہ کے خلاف نہ کوئی گواہ ہے نہ ثبوت۔ خاتون کو جیل میں بھی ایک بچے کی ولادت ہوئی ہے، اور متوفی بچہ پہلے ہی دمہ کا مریض تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چند دن کی 1965ء کی جنگ نے ملکی معاشی حالات ابتر کردئیے، لوگوں کو تنگی کا ملال نہ تھا جنگ میں سرخرو ہونے کی وجہ سے سر فخر سے بلندیوں پر تھا
عدالت کی رائے
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ موت قدرتی نہیں تھی۔ جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ بچے کو ماں نے مارا، یہ کیسے پتہ چلے گا؟ آدھا کیس مدعی اور آدھا پولیس خراب کرتی ہے۔
سماعت کا اظہار
کیس کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، ملزمہ کے خلاف تھانہ ننکانہ صاحب میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔








