سپریم کورٹ: چار سالہ بچے کے قتل کے الزام میں سوتیلی ماں کی ضمانت منظور
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے چار سالہ بچے کے قتل کے الزام میں سوتیلی ماں کی ضمانت منظور کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: ہم دیوار میں انگلی سے سوراخ کرنے کے عادی لوگ ہیں، میں نے کہا ”پبلک سروس کمیشن کا امتحان دیکر یہاں پہنچا ہوں، آئندہ گفتگو میں محتاط رہیے گا“۔
کیس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق، مدعی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمہ مدعی مقدمہ کی دوسری اہلیہ ہے۔ مدعی کا کہنا ہے کہ وہ بچے کو صحیح سلامت گھر چھوڑ کر گیا تھا، لیکن سکول سے واپسی پر دیکھا کہ گھر میں بچے کی لاش پڑی ہے۔ ملزمہ نے گھریلو جھگڑے کے دوران بچے کو زہریلی چیز کھلا کر گلا دبایا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں غیر قانونی آمد و رفت کا سلسلہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا، صدر ٹرمپ
مدافع کا موقف
ملزمہ کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ملزمہ کے خلاف نہ کوئی گواہ ہے نہ ثبوت۔ خاتون کو جیل میں بھی ایک بچے کی ولادت ہوئی ہے، اور متوفی بچہ پہلے ہی دمہ کا مریض تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: یونیورسٹی انتخابات میں اسلامی طلبہ شبیر کا حمایت یافتہ پینل 3 اہم عہدوں پر کامیاب
عدالت کی رائے
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ موت قدرتی نہیں تھی۔ جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ بچے کو ماں نے مارا، یہ کیسے پتہ چلے گا؟ آدھا کیس مدعی اور آدھا پولیس خراب کرتی ہے۔
سماعت کا اظہار
کیس کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، ملزمہ کے خلاف تھانہ ننکانہ صاحب میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔








