پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پری امیگریشن کلیئرنس پر اتفاق
ملاقات کا پس منظر
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی میں متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سطح وفد نے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں امیگریشن کے عمل کو مزید سہل بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: چاہت فتح علی خان نے اپنا موازنہ ایک مشہور اداکارہ سے کردیا
پری امیگریشن کلیئرنس معاہدہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اس دوران پری امیگریشن کلیئرنس کے حوالے سے باضابطہ معاہدے پر اتفاق کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ اس نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: تبتی روحانی پیشوا دلائی لامہ 130 سال سے زیادہ زندہ رہنا چاہتے ہیں
نظام کے فوائد
محسن نقوی کے مطابق پری امیگریشن کلیئرنس کے تحت مسافروں کی امیگریشن اور متعلقہ کلیئرنس پاکستان میں ہی مکمل کر لی جائے گی، جس کے بعد متحدہ عرب امارات پہنچنے پر انہیں امیگریشن کی طویل کارروائی سے نہیں گزرنا پڑے گا۔ اس نظام کے تحت مسافر ڈومیسٹک سفر کی طرح سیدھا ایئرپورٹ سے باہر نکل سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی شوبز کے وہ ستارے جو 2025 میں رخصت ہوگئے۔
بہتری کے امکانات
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ اقدام سفر کو مزید سہل بنانے، وقت کی بچت اور مسافروں کے مجموعی تجربے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شاہد آفریدی کی وزیراعظم سے بھی ملاقات، کیا بات چیت ہوئی؟ تفصیلات سامنے آگئیں
یو اے ای کا وفد
یو اے ای کے وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے عوام کے لیے مفید قرار دیتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ پائلٹ منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے کے لیے متعلقہ حکام کے درمیان رابطہ کاری جاری رہے گی، جبکہ منصوبے کی کامیابی کے بعد اس نظام کو بتدریج دیگر شہروں تک توسیع دی جائے گی۔
وفد کی composition
وفد میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن جما عبداللہ القابی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایئرپورٹس حماد سیف المشغونی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔ ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔








