بھارت نہیں جائیں گے ’’ ۔۔۔بنگلہ دیش کا معاملہ آئی سی سی کیلیے دردسر بن گیا
بنگلہ دیش کا بھارت جانے سے انکار
ڈھاکہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) ’’بھارت نہیں جائیں گے‘‘ ۔۔۔ بنگلہ دیش کا معاملہ آئی سی سی کے لیے دردسر بن گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن غضب للحق: ۱۳۳ طالبان ہلاک، ۳۶ افغان ٹینک، ۱۶ پوسٹیں تباہ، ۷ پر قبضہ، پاک فضائیہ کے تابڑ توڑ حملے
آئی سی سی کے چیلنجز
تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچز کے لیے بھارت جانے سے انکار کا معاملہ آئی سی سی کے لیے دردسر بن گیا ہے۔ معاملہ سلجھنے کے بجائے مزید الجھتا ہوا دکھائی دینے لگا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا امریکی پابندیوں پر سخت ردعمل، فیصلہ متعصبانہ قرار دے دیا
مشیر کھیل کا بیان
’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے مطابق بنگلہ دیش کے مشیر کھیل آصف نظرل نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ آئی سی سی کی سیکیورٹی ٹیم کی جانب سے موصول ہونے والے خط کے بعد 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش ٹیم کے لیے بھارت جانا ناممکن ہوگا۔ ہمارے بھارت میں میچز نہ کھیلنے کے حوالے سے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے، ہم نے آئی سی سی کو 2 خطوط بھیجے اور اب دوسرے خط کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ آئی سی سی کی سیکیورٹی ٹیم اور سیکیورٹی کے ذمہ داران نے ایک خط بھیجا ہے، اس میں 3 چیزوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو بنگلہ دیش ٹیم کے لیے خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ کی صورت میں مسلح افواج کو ایندھن فراہمی کے لئے پاکستانی ریفائنریوں نے تیاری کر لی
سیکیورٹی خطرات کی وضاحت
مشیر کھیل آصف نظرل نے وضاحت کی کہ خط کے مندرجات کے مطابق اگر مستفیض الرحمان ٹیم میں شامل ہوں یا بنگلہ دیشی شائقین قومی جرسی پہن کر سٹیڈیم میں آئیں تو صورتحال کشیدہ ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ جیسے جیسے انتخابات قریب آئیں گے وہاں بنگلہ دیش ٹیم کے لیے سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوگا۔ یہ خط واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ بھارت میں بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے لیے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنا ممکن نہیں ہے۔
آصف نظرل کا مزید کہنا
آصف نظرل کا مزید کہنا تھا کہ اگر آئی سی سی یہ توقع رکھتا ہے کہ ہم اپنے بہترین بولر کے بغیر ٹیم بنائیں، شائقین ہماری جرسی نہ پہنیں اور ہم انتخابات کو موخر کریں تاکہ کرکٹ کھیل سکیں، تو یہ سب سے زیادہ غیر حقیقی اور ناممکن توقع ہوگی۔








