اگر چاہتے ہیں کہ جمہوریت کے ثمرات عام لوگوں تک پہنچیں تو بلدیاتی نظام کو مضبوط کرنا پڑیگا: اعظم نذیر تارڑ
بلدیاتی نظام کی اہمیت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اگر چاہتے ہیں کہ جمہوریت کے ثمرات عام لوگوں تک پہنچیں تو بلدیاتی نظام کو مضبوط کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: لاپتہ شہری کی فیملی کے اکاؤنٹ میں 50 لاکھ روپے کی امدادی رقم منتقل، رسید اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش
قانون اور آئین کی اہمیت
اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ اگر ہم اپنے رویئے درست نہیں کریں گے تو آئین اور قانون میں جو بھی لکھیں فائدہ نہیں ہوگا۔ 27ویں آئینی ترمیم کے وقت وزیراعظم نے مجھے کہا کہ ایم کیو ایم کی طرف سے بلدیاتی نظام پر آنے والے مسودے پر جو جماعتیں تیار ہیں ان کے ساتھ بیٹھیں۔18ویں ترمیم سے قبل یا بعد میں صوبوں اور وفاق کا رشتہ برقرار رہے لیکن اگر ہم درست معنوں میں اختیارات کی منتقلی چاہتے ہیں تو بلدیاتی اداروں کو اختیارات دیئے بغیر ممکن نہیں۔ ہمیں ایک پائیدار اور بااختیار بلدیاتی نظام چاہیے، اسی میں پاکستان کی بھلائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان فٹبال فیڈریشن کے چیئرمین ہارون ملک کی فیفا غیر معمولی کانگریس میں شرکت
ای آفس کے فوائد
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ آج کل ای آفس ہے جس سے فائلز کی اپروول آن لائن ہوتی ہے، اس آرڈیننز کی بھی اپروول ہو گئی، سٹاف ٹو سٹاف اس کو اپروو سمجھا گیا ہے، دستخط شدہ فائلز موصول ہوئیں تو اس آرڈیننس پر دستخط نہیں تھے۔ اس کی پرنٹنگ ہو چکی تھی، یہ غلطی ہوئی جس کی درستگی کی گئی۔ جو بل مشترکہ اجلاس سے صدر کے پاس جائے تو صدر 10 روز اس کو رکھ سکتے ہیں، خیر سگالی کے تحت ان بلز کو بھی نوٹیفائی نہیں کیا گیا کیونکہ صدر نے منظوری نہیں دی۔
حکومتی تعلقات
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا پاکستان پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کا آپس میں اچھا تعلق ہے، اس تعلق کی وجہ سے اس آرڈیننس کو بھی واپس لیا گیا ہے، آئندہ بھی معاملات کو افہام و تفہیم سے چلائیں گے۔








