این سی سی آئی اے کو ملازمین کی مستقلی سے متعلق فیصلہ کرنے کی مہلت مل گئی
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے کو 30 روز میں ملازمین کو مستقل کرنے سے متعلق فیصلہ کرنے کا وقت دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ: تمام تر کوششوں کے باوجود ٹریفک پولیس وائرل چاچا کے سائز کا ہیلمٹ نہ مہیا کر سکی،DSP مبشر قادر کا ہیلمٹ کے لیے خصوصی ٹیم لاہور روانہ کرنے کا اعلان
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے این سی سی ای اے کے فیز تھری کے سینکڑوں ملازمین کو مستقل کرنے کی درخواستوں پر سماعت کی۔ این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ایڈمن اور لیگل ڈیپارٹمنٹ کے افسران پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کے شہری کا بیٹا برما میں غیر قانونی حراست اور تشدد کا شکار ، ایف آئی اے سے فوری مدد کی اپیل
جسٹس کے ریمارکس
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ عدالت توقع کرتی ہے کہ ایک ماہ میں رولز بنا کر عدالتی حکم پر عمل درآمد کیا جائے گا، نیا ادارہ بنا تھا لگتا اس کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسمبلی جا رہے تھے کہ صاحب کے کسی جاننے والے کا فون آیا،ہم بھی عجیب سوچ رکھنے والے ہیں واقفیت ہو تو ڈیوٹی پر معمور انسان کو غلام سمجھتے ہیں
ملازمین کے حقوق کی حفاظت
عدالت نے ہدایت کی کہ جب تک معاملہ عدالت میں ہے، ملازمین سے متعلق کوئی فیصلہ نہ کیا جائے جس سے وہ متاثر ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: کسانوں کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے: مریم نواز
فیصلے کے پیچھے وجوہات
دوران سماعت، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا وجہ ہے ملازمین کی مستقلی کا فیصلہ کیوں نہ ہوا؟
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا حکومت وفاق اور افواج کے ساتھ کھڑی ہے: مزمل اسلم
این سی سی آئی اے کا موقف
حکام این سی سی آئی اے نے بتایا کہ اے پی ٹی (اپائنٹمنٹ، پروموشن ٹرانسفر) رولز پاس ہونے کے لیے کابینہ کو بھیجے گئے ہیں، کابینہ سے تاحال منظوری نہ ہو سکی جس کی وجہ سے مستقلی کا معاملہ تاخیر کا شکار ہے۔ معاملہ کابینہ میں ہونے کی وجہ سے 30 روز کی مہلت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ترک سفیر کا الخدمت فاؤنڈیشن کے مرکزی دفتر کا دورہ، فلاحی میدان میں تعاون مزید بڑھائیں گے:ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو
آگے کے اقدامات
عدالت نے ہدایت کی کہ 30 روز لے لیں اگر پھر بھی تاخیر ہوئی تو متعلقہ سیکریٹریز کو بلا کر پوچھیں گے کہ تاخیر کی وجہ کیا ہے۔
سماعت کی تاریخ
عدالت نے ایک ماہ کا وقت دیتے ہوئے سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی۔








