این سی سی آئی اے کو ملازمین کی مستقلی سے متعلق فیصلہ کرنے کی مہلت مل گئی
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے کو 30 روز میں ملازمین کو مستقل کرنے سے متعلق فیصلہ کرنے کا وقت دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ارجنٹینا نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دیدیا
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے این سی سی ای اے کے فیز تھری کے سینکڑوں ملازمین کو مستقل کرنے کی درخواستوں پر سماعت کی۔ این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ایڈمن اور لیگل ڈیپارٹمنٹ کے افسران پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: دو سال سے ملزم جیل میں ہے، عدالت 727 دن بعد تفتیش کی اجازت نہ دے، وکیل سلمان صفدر
جسٹس کے ریمارکس
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ عدالت توقع کرتی ہے کہ ایک ماہ میں رولز بنا کر عدالتی حکم پر عمل درآمد کیا جائے گا، نیا ادارہ بنا تھا لگتا اس کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دی اکانومسٹ میں شائع ہونے والا نام نہاد تجزیہ محض پرانی پروپیگنڈا کہانیوں کی نئی شکل ہے، جسے غیر ملکی تبصرے کا لبادہ پہنا دیا گیا ،پی ٹی آئی کا اعلامیہ
ملازمین کے حقوق کی حفاظت
عدالت نے ہدایت کی کہ جب تک معاملہ عدالت میں ہے، ملازمین سے متعلق کوئی فیصلہ نہ کیا جائے جس سے وہ متاثر ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس، پنجاب کے ہر شہر کے لیے بیوٹیفیکیشن پلان تیار، فروری سے مئی تک کا ہدف مقرر
فیصلے کے پیچھے وجوہات
دوران سماعت، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا وجہ ہے ملازمین کی مستقلی کا فیصلہ کیوں نہ ہوا؟
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں مارکیٹوں، عمارتوں، سکولوں اور ہائر رائز بلڈنگز کے حوالے سے اہم فیصلے،وزیر اعلیٰ نے 2 ہفتے کی مہلت دیدی
این سی سی آئی اے کا موقف
حکام این سی سی آئی اے نے بتایا کہ اے پی ٹی (اپائنٹمنٹ، پروموشن ٹرانسفر) رولز پاس ہونے کے لیے کابینہ کو بھیجے گئے ہیں، کابینہ سے تاحال منظوری نہ ہو سکی جس کی وجہ سے مستقلی کا معاملہ تاخیر کا شکار ہے۔ معاملہ کابینہ میں ہونے کی وجہ سے 30 روز کی مہلت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا، اسرائیلی فوج کا دعویٰ
آگے کے اقدامات
عدالت نے ہدایت کی کہ 30 روز لے لیں اگر پھر بھی تاخیر ہوئی تو متعلقہ سیکریٹریز کو بلا کر پوچھیں گے کہ تاخیر کی وجہ کیا ہے۔
سماعت کی تاریخ
عدالت نے ایک ماہ کا وقت دیتے ہوئے سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی۔








