این سی سی آئی اے کو ملازمین کی مستقلی سے متعلق فیصلہ کرنے کی مہلت مل گئی
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے کو 30 روز میں ملازمین کو مستقل کرنے سے متعلق فیصلہ کرنے کا وقت دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایسا پنجاب چاہتے ہیں جہاں کسی کو کمتر نہ سمجھا جائے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے این سی سی ای اے کے فیز تھری کے سینکڑوں ملازمین کو مستقل کرنے کی درخواستوں پر سماعت کی۔ این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ایڈمن اور لیگل ڈیپارٹمنٹ کے افسران پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کا مشرقِ وسطیٰ میں فوجی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ
جسٹس کے ریمارکس
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ عدالت توقع کرتی ہے کہ ایک ماہ میں رولز بنا کر عدالتی حکم پر عمل درآمد کیا جائے گا، نیا ادارہ بنا تھا لگتا اس کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی چیمپئنز ٹرافی ناکام بنانے کیلئے دیگر کرکٹ بورڈز کو بھاری رقم کی پیشکش
ملازمین کے حقوق کی حفاظت
عدالت نے ہدایت کی کہ جب تک معاملہ عدالت میں ہے، ملازمین سے متعلق کوئی فیصلہ نہ کیا جائے جس سے وہ متاثر ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: مخصوص نشستیں نظرثانی کیس ؛ جسٹس جمال مندوخیل اور وکیل حامد خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ
فیصلے کے پیچھے وجوہات
دوران سماعت، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا وجہ ہے ملازمین کی مستقلی کا فیصلہ کیوں نہ ہوا؟
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان حکومت کی جانب سے چین سے خریدی گئی 21 جدید بسیں کراچی بندرگاہ پر پہنچ گئیں
این سی سی آئی اے کا موقف
حکام این سی سی آئی اے نے بتایا کہ اے پی ٹی (اپائنٹمنٹ، پروموشن ٹرانسفر) رولز پاس ہونے کے لیے کابینہ کو بھیجے گئے ہیں، کابینہ سے تاحال منظوری نہ ہو سکی جس کی وجہ سے مستقلی کا معاملہ تاخیر کا شکار ہے۔ معاملہ کابینہ میں ہونے کی وجہ سے 30 روز کی مہلت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: محرم انتظامات: عظمیٰ بخاری کا جڑانوالہ کا دورہ،ایس او پیز کاغذوں پر نہیں، زمینی حقائق میں نظر آئیں: وزیر اطلاعات
آگے کے اقدامات
عدالت نے ہدایت کی کہ 30 روز لے لیں اگر پھر بھی تاخیر ہوئی تو متعلقہ سیکریٹریز کو بلا کر پوچھیں گے کہ تاخیر کی وجہ کیا ہے۔
سماعت کی تاریخ
عدالت نے ایک ماہ کا وقت دیتے ہوئے سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی۔








