این سی سی آئی اے کو ملازمین کی مستقلی سے متعلق فیصلہ کرنے کی مہلت مل گئی
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے کو 30 روز میں ملازمین کو مستقل کرنے سے متعلق فیصلہ کرنے کا وقت دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے این سی سی ای اے کے فیز تھری کے سینکڑوں ملازمین کو مستقل کرنے کی درخواستوں پر سماعت کی۔ این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ایڈمن اور لیگل ڈیپارٹمنٹ کے افسران پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل کو استثنیٰ دینے سے آرٹیکل 6 ختم نہیں ہوتا، رانا ثنا اللہ
جسٹس کے ریمارکس
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ عدالت توقع کرتی ہے کہ ایک ماہ میں رولز بنا کر عدالتی حکم پر عمل درآمد کیا جائے گا، نیا ادارہ بنا تھا لگتا اس کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گینگ آف تھری کا دم چھلّہ وفاق کی جڑیں کھودنے میں مصروف ہے ، پی ٹی آئی
ملازمین کے حقوق کی حفاظت
عدالت نے ہدایت کی کہ جب تک معاملہ عدالت میں ہے، ملازمین سے متعلق کوئی فیصلہ نہ کیا جائے جس سے وہ متاثر ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کے الیکشن جیتنے پر امریکہ چھوڑ کر جانے والا اداکار اب کہاں اور کس حال میں ہے؟
فیصلے کے پیچھے وجوہات
دوران سماعت، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا وجہ ہے ملازمین کی مستقلی کا فیصلہ کیوں نہ ہوا؟
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی اداکاروں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بھارت میں بلاک کر دیئے گئے
این سی سی آئی اے کا موقف
حکام این سی سی آئی اے نے بتایا کہ اے پی ٹی (اپائنٹمنٹ، پروموشن ٹرانسفر) رولز پاس ہونے کے لیے کابینہ کو بھیجے گئے ہیں، کابینہ سے تاحال منظوری نہ ہو سکی جس کی وجہ سے مستقلی کا معاملہ تاخیر کا شکار ہے۔ معاملہ کابینہ میں ہونے کی وجہ سے 30 روز کی مہلت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: میں نے ایئر شو میں جے 10 طیارے پر توجہ نہیں دی تھی لیکن حقیقی معرکہ آرائی پر اس کی طاقت کا اندازہ ہوا کہ ۔ ۔ ۔” چینی صحافی نے ویڈیو شیئر کردی
آگے کے اقدامات
عدالت نے ہدایت کی کہ 30 روز لے لیں اگر پھر بھی تاخیر ہوئی تو متعلقہ سیکریٹریز کو بلا کر پوچھیں گے کہ تاخیر کی وجہ کیا ہے۔
سماعت کی تاریخ
عدالت نے ایک ماہ کا وقت دیتے ہوئے سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی۔








