ایران میں احتجاج کے دوران 12 ہزار افراد مارے گئے، ایران انٹرنیشنل کا دعویٰ
ایران میں حالیہ کریک ڈاؤن
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران میں جاری حالیہ کریک ڈاؤن کے دوران کم از کم 12 ہزار افراد کے مارے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جبکہ ملک بھر میں اطلاعات کے تبادلے پر سخت ترین بلیک آؤٹ نافذ ہے۔ اپوزیشن سے وابستہ ویب سائٹ ایران انٹرنیشنل نے "The killing of 12,000 Iranians will not be buried in silence" کے عنوان سے ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے، جس میں تازہ ترین احتجاجی لہر کے دوران ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق اپنی تحقیقات اور شواہد پیش کیے گئے ہیں اور عوام سے دستاویزات اور گواہیاں فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں شادی سے قبل ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان قتل، ڈاکو اپنی موٹر سائیکل چھوڑ کر فرار
سخت بلیک آؤٹ کی صورت حال
بیان کے مطابق ایران اس وقت ایک منظم اور ہمہ گیر بلیک آؤٹ کی زد میں ہے، جس کا مقصد صرف سیکیورٹی کنٹرول نہیں بلکہ حقیقت کو چھپانا ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش، مواصلاتی نظام کی معطلی، میڈیا پر قدغنیں اور صحافیوں و عینی شاہدین کو دھمکیاں ایک ہی مقصد کی طرف اشارہ کرتی ہیں: ایک بڑے اور تاریخی جرم کو عوام کی نظروں سے اوجھل رکھنا۔
یہ بھی پڑھیں: جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان بنگلہ دیش کے دورے پر روانہ
حقائق کی جانچ پڑتال
ایران انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ملنے والی بکھری ہوئی مگر نہایت تشویشناک اطلاعات کے بعد ادارے نے ان خبروں کی تصدیق پر توجہ مرکوز کی تاکہ جبر اور قتل عام کے اصل پیمانے کی واضح تصویر سامنے آ سکے۔ ایسے ملک میں جہاں ریاستی ادارے جان بوجھ کر معلومات تک رسائی محدود رکھتے ہیں، اس نوعیت کا تخمینہ لگانا نہایت مشکل اور وقت طلب عمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونا مہنگا
شواہد کی جانچ
بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کے بعد شواہد کی مقدار اور مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات اس سطح تک پہنچ گئیں کہ نسبتاً درست اندازہ ممکن ہو سکا۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران ایران انٹرنیشنل کے ایڈیٹوریل بورڈ نے ایک سخت اور کئی مراحل پر مشتمل جانچ کے عمل کے تحت معلومات کا جائزہ لیا۔ ان معلومات میں متعدد ذرائع، عینی شاہدین اور مقتولین کے اہل خانہ کی گواہیاں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکارہ رِدھی ڈوگرا کے فواد خان کے ساتھ اپنی فلم کے حوالے سے اہم انکشافات
ہلاکتوں کا تخمینہ
ایران انٹرنیشنل اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ "ایران کی معاصر تاریخ میں سب سے بڑے قتل عام کے دوران، جو زیادہ تر 8 اور 9 جنوری کو ہوا، کم از کم 12 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔" پاسداران انقلاب اور بسیج فورسز کے گولیوں کا نشانہ بننے والے افراد کی بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے، جن کی عمر 30 سال سے کم تھی۔
حتمی تعداد کی تصدیق
ایران انٹرنیشنل نے واضح کیا ہے کہ مواصلاتی بندش اور براہِ راست معلومات تک رسائی نہ ہونے کے باعث حتمی تعداد کی تصدیق کے لیے مزید تفصیلی دستاویزات درکار ہوں گی۔








