وفاقی حکومت اور ادارے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ بیٹھ کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوئی ٹھوس پالیسی بنائیں، علی محمد خان
احتجاج اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس پالیسی کی ضرورت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور ادارے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ بیٹھ کر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کوئی ٹھوس پالیسی بنائیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فوج نے مقبوضہ کشمیر کو پاکستان میں شامل کردیا
دہشتگردی کے خلاف آپریشن کی مخالفت
پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف آپریشن کی مخالفت اس لیے کرتی ہے کہ اس سے پورا علاقہ خالی کرنا پڑتا ہے، اور نقل مکانی کی وجہ سے معاشرتی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کرسٹیانو رونالڈو نے 2026 ورلڈ کپ کو اپنے کیریئر کا آخری ایونٹ قرار دے دیا
ایک جامع پالیسی کی ضرورت
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمیں ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر کوئی پالیسی بنانا ہوگی۔ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کو سیاست سے مبرا ہونا چاہیے۔ اگر دہشتگری کے خلاف ہم ایک نہیں ہوں گے تو اس کی قیمت ایک عام آدمی کو اپنے خون سے چکانی پڑ رہی ہے۔ ’اس کی قیمت ایک عام آدمی، پولیس اہلکار، فوجی جوان، رینجرز اور ایف سی والے چکاتے ہیں۔ اگر آپ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ بیٹھ کر دہشتگردی کے خلاف کوئی پالیسی بنا لیں گے تو اس کا فائدہ پاکستان کو ہوگا۔
اجتماعی اتحاد کی اہمیت
علی محمد خان نے مزید کہاکہ خدارا ایک دوسرے کو غدار غدار کہنا بند کریں، کیوں کہ اس کا فائدہ دہشتگرد اٹھاتے ہیں، کیوں کہ ان کو موقع مل جاتا ہے کہ یہ تو اندر سے ہی تقسیم ہیں۔
پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف بڑے آپریشن کی مخالفت کیوں کرتی ہے؟ علی محمد خان نے بتایا دیا pic.twitter.com/y6XCuROx7a
— WE News (@WENewsPk) January 13, 2026








