وفاقی حکومت اور ادارے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ بیٹھ کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوئی ٹھوس پالیسی بنائیں، علی محمد خان
احتجاج اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس پالیسی کی ضرورت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور ادارے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ بیٹھ کر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کوئی ٹھوس پالیسی بنائیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی محکمہ خارجہ کی سابق ملازمہ نے لاکھوں ڈالر چوری کیے، لیکن کیا طریقہ اختیار کیا کہ کئی سال پکڑی نہ جا سکیں؟
دہشتگردی کے خلاف آپریشن کی مخالفت
پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف آپریشن کی مخالفت اس لیے کرتی ہے کہ اس سے پورا علاقہ خالی کرنا پڑتا ہے، اور نقل مکانی کی وجہ سے معاشرتی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ اپنی آنتوں کی صفائی کر رہے ہیں؟ یہ کیوں ضروری ہے؟
ایک جامع پالیسی کی ضرورت
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمیں ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر کوئی پالیسی بنانا ہوگی۔ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کو سیاست سے مبرا ہونا چاہیے۔ اگر دہشتگری کے خلاف ہم ایک نہیں ہوں گے تو اس کی قیمت ایک عام آدمی کو اپنے خون سے چکانی پڑ رہی ہے۔ ’اس کی قیمت ایک عام آدمی، پولیس اہلکار، فوجی جوان، رینجرز اور ایف سی والے چکاتے ہیں۔ اگر آپ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ بیٹھ کر دہشتگردی کے خلاف کوئی پالیسی بنا لیں گے تو اس کا فائدہ پاکستان کو ہوگا۔
اجتماعی اتحاد کی اہمیت
علی محمد خان نے مزید کہاکہ خدارا ایک دوسرے کو غدار غدار کہنا بند کریں، کیوں کہ اس کا فائدہ دہشتگرد اٹھاتے ہیں، کیوں کہ ان کو موقع مل جاتا ہے کہ یہ تو اندر سے ہی تقسیم ہیں۔
پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف بڑے آپریشن کی مخالفت کیوں کرتی ہے؟ علی محمد خان نے بتایا دیا pic.twitter.com/y6XCuROx7a
— WE News (@WENewsPk) January 13, 2026








