جے یو آئی نے صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس کے اجرا کو حکومتی مکاری اور جمہوریت کی توہین قرار دے دیا
جے یو آئی کے سربراہ کی ملاقات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جماعت کے جنرل سیکریٹری حافظ عبدالرحمان سے ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: گجرات اور سیالکوٹ میں شدید ترین بارش، 3 گھنٹے میں سڑکیں صاف، وزیراعلیٰ مریم نواز نے ورچوئل نگرانی کی
ملاقات میں موجود رہنما
اس موقع پر مولانا فاضل عثمانی، مولانا مقصود الوری، حافظ زین العابدین، سلمان عارف، محمد شاہد اور دیگر جماعتی عہدیداران بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اندرون لاہور کی سڑکیں چوڑی کرنے کے نام پر غریب عوام پر زندگی مزید تنگ کر دی گئی ہے،مونس الہیٰ
مدارس پر دباؤ کا مسئلہ
نجی ٹی وی کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ مدارس پر دباؤ ڈالنا بیرونی ایجنڈا ہے جسے جماعت مسترد کرتی ہے اور حکمرانوں کو چاہیے کہ دینی اداروں کو عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھیں۔
یہ بھی پڑھیں: بے نامی اتھارٹی پچھلے 11 ماہ سے غیر فعال ہونے کا انکشاف
حکومتی عیاری اور آرڈیننس
جے یو آئی کے ترجمان نے کہاکہ صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس کے اجرا سے حکومتی عیاری نمایاں ہوگئی ہے اور اس سے صدر کے دفتر، پارلیمنٹ، سیاست دانوں اور جمہوریت کی توہین ہوئی ہے۔ حکومت نے چند روزہ اقتدار کے لیے آئین، اقدار اور جمہوریت کو نظرانداز کیا اور مستقبل میں پارلیمنٹ یا دستخطوں کی ضرورت بھی نہیں سمجھی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کا احتجاج، آئی جی اسلام آباد کی ڈی چوک میں میڈیا سے گفتگو،اہم بیان جاری کردیا
عوام کی مشکلات
ترجمان اسلم غوری نے کہاکہ جعلی اور جبری اکثریت کے حالات میں یہی ہوتا ہے۔ ن لیگ اور پی پی کے اقتدار کے شوق کی قیمت ہمیشہ عوام نے چکائی، اور موجودہ حکومتی اقدامات یہ ثابت کر رہے ہیں کہ حکمران صرف اپنی نوکری بچانے میں مصروف ہیں جبکہ عوام کی کوئی پرواہ نہیں، اور پارلیمنٹ کسی آرڈیننس فیکٹری کا منظر پیش کر رہی ہے۔
حالیہ واقعہ
واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے صدر کے دستخط کے بغیر ایک آرڈیننس جاری کردیا تھا، تاہم پیپلز پارٹی کے احتجاج پر واپس لے لیا گیا۔








