جے یو آئی نے صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس کے اجرا کو حکومتی مکاری اور جمہوریت کی توہین قرار دے دیا
جے یو آئی کے سربراہ کی ملاقات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جماعت کے جنرل سیکریٹری حافظ عبدالرحمان سے ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امارات نے اپنے ملک میں چاول اگانے کے تجربات شروع کردیے، ریگستان میں یہ کیسے ممکن بنایا جائے گا؟
ملاقات میں موجود رہنما
اس موقع پر مولانا فاضل عثمانی، مولانا مقصود الوری، حافظ زین العابدین، سلمان عارف، محمد شاہد اور دیگر جماعتی عہدیداران بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: تیراہ سے نقل مکانی پر وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنی ناکامیوں کا کھلے دل سے اعتراف کرے،اسد قیصر
مدارس پر دباؤ کا مسئلہ
نجی ٹی وی کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ مدارس پر دباؤ ڈالنا بیرونی ایجنڈا ہے جسے جماعت مسترد کرتی ہے اور حکمرانوں کو چاہیے کہ دینی اداروں کو عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے مزید 2 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا آرڈر دے دیا
حکومتی عیاری اور آرڈیننس
جے یو آئی کے ترجمان نے کہاکہ صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس کے اجرا سے حکومتی عیاری نمایاں ہوگئی ہے اور اس سے صدر کے دفتر، پارلیمنٹ، سیاست دانوں اور جمہوریت کی توہین ہوئی ہے۔ حکومت نے چند روزہ اقتدار کے لیے آئین، اقدار اور جمہوریت کو نظرانداز کیا اور مستقبل میں پارلیمنٹ یا دستخطوں کی ضرورت بھی نہیں سمجھی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ٹیم کی شرٹ پہننے پر تماشائی کو گراونڈ سے نکالنے پر انگلش کاونٹی کرکٹ کلب نے معافی مانگ لی
عوام کی مشکلات
ترجمان اسلم غوری نے کہاکہ جعلی اور جبری اکثریت کے حالات میں یہی ہوتا ہے۔ ن لیگ اور پی پی کے اقتدار کے شوق کی قیمت ہمیشہ عوام نے چکائی، اور موجودہ حکومتی اقدامات یہ ثابت کر رہے ہیں کہ حکمران صرف اپنی نوکری بچانے میں مصروف ہیں جبکہ عوام کی کوئی پرواہ نہیں، اور پارلیمنٹ کسی آرڈیننس فیکٹری کا منظر پیش کر رہی ہے۔
حالیہ واقعہ
واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے صدر کے دستخط کے بغیر ایک آرڈیننس جاری کردیا تھا، تاہم پیپلز پارٹی کے احتجاج پر واپس لے لیا گیا۔








