کانگریس کی سرپرستی میں ’ہندو مہا سبھا‘ اور ’راشٹریہ سیوک سنگھ‘ وغیرہ ہتھیار جمع کررہی تھیں، ساہوکار روپے دے رہے تھے، یوں قیامت ٹوٹ پڑی۔
مصنف: ع غ جانباز
قسط: 27
اُدھر ملک میں کانگریسی وزارتوں کی سرپرستی میں "ہندو مہا سبھا" اور "راشٹریہ سیوک سنگھ" وغیرہ ہر قسم کے ہتھیار جمع کررہی تھیں۔ ہندو ساہوکار روپے دے رہے تھے اور سب ریاستوں سے اسلحہ آرہا تھا۔
اِسی طرح ہندوؤں نے کلکتہ میں جو آگ بھڑکائی اُس کے یہ شعلے پھر اِدھر اُدھر پھیلنے لگے۔ اِس آگ نے دُور دراز تک کے علاقے اپنی لپیٹ میں لے لیے۔ جہاں زن و مرد، بوڑھے، جوان اور بچّوں کو بے دریغ ذبح کیا گیا اور اِس طرح بنگال کی تقسیم کی راہ ہموار کی۔
یُوں مجبوری کی حالت میں مسلم لیگ کو پنجاب اور بنگال کی تقسیم کو قبول کرنا پڑا۔ ریڈ کلف، جسے اس تقسیم کی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی اُس نے پنجاب کے کئی مسلم اکثریتی اضلاع ہندوستان میں شامل کردئیے اور ہندوستان کو کشمیر کے لیے راستہ فراہم کردیا۔ سکھّوں اور ہندوؤں نے 15اگست سے پہلے ہی پنجاب میں قتل و غارت گری شروع کردی تھی۔ پاکستانی افواج دُوسری جنگ عظیم میں شمولیت کی وجہ سے ابھی ملک سے باہر تھیں۔ اس لیے انہیں ظلم و زیادتی کے لیے کُھلا میدان مل گیا۔
اِس طرح نہتے مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ "راشٹریہ سیوک سنگھ" اور "اکالی دَل" جو ہر طرح کے اسلحہ سے لیس تھے، حکومتی سر پرستی میں خون کی ہولی کھیلتے رہے۔ اس قتل وغارت گری کا مقصد اِس علاقے سے مسلم آبادی کا خاتمہ کرنا تھا۔ ہندوستانی فوج اور پولیس، جسے غیر جانبدار فریق ہونا چاہیے تھا، حملہ آوروں کی پشت پناہی کرتی رہیں اور چُن چُن کر مسلمانوں کو نشانہ بناتی رہیں۔
دو آزاد مملکتیں
چودھویں اور پندرہویں اگست 1947ء کی درمیانی شب کو پاکستان اور ہندوستان کی دو آزاد مملکتیں وجود میں آچکی تھیں۔ مسلمانوں کے گھروں میں مسّرت اور شادمانی کے نعرے اور قہقہے گونج رہے تھے۔ چراغاں ہوا، اور شکرانے کے نفل ادا کیے گئے۔
بّرصغیر کے بَٹوارے کا اعلان ہوا تھا تو مشرقی پنجاب کے مسلم اکثریت کے اضلاع کو یہ عِندیہ ملا کہ یہ اضلاع پاکستان کا حصّہ بنیں گے۔ لیکن ماؤنٹ بیٹن اور بنیے کی ملی بھگت سے گورداسپور کا ضلع ہندوستان میں شامل کر دیا گیا۔ اِس طرح یہ سارے مسلم اکثریت کے علاقے ایک انجانے شکنجے میں کس دئیے گئے۔ اگر بنیا یہ چال نہ چلتا تو اِن اضلاع کے لوگ ضرورت پڑنے پر گورداسپور میں نقل مکانی کر جاتے۔
گورداسپور کے ہندوستان میں شمولیّت کا پہلے پتا نہ چلنے کی وجہ سے یہ مسلم اکثریت کے اضلاع کوئی تیّاری بھی نہ کرسکے۔ اِس فیصلے کا اگر پہلے پتہ ہوتا تو وہ ضرور اپنے دفاع کا سوچتے اور ضروری اقدام بجا لاتے۔ اِس گھناؤنی سازش کی وجہ سے اِن اکثریتی اضلاع کے لوگوں کو آگ اور خون کے دریا پار کرنے پڑے اور نقل مکانی کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔
بربریت کا پھیلاؤ
مشرقی پنجاب کے علاوہ بھی یہ بربرّیت اور سفّاکی دوسرے اضلاع، رہتک، ہسار، کرنال، لدھیانہ، گڑگاؤں تک بھی پھیل گئی تھی۔ ہر جگہ گاؤں، قصبوں اور شہروں کی مسلم آبادیوں کو یُوں آنِ واحد میں ملیا میٹ کیا گیا جس کی نظیر تاریخ کے صفحے اُلٹیں تو کہیں نہ ملے گی۔ انسانیّت مُنہ چھپائے پھرتی تھی۔ شرافت کا جنازہ نکل گیا تھا۔ ایک قیامت برپا کر دی گئی۔ بچّوں بوڑھوں جوانوں کو تہہ تیغ کیا گیا۔ عورتوں کو بھی نہ بخشا گیا۔ فسادی جواں پردہ دار لڑکیوں کو اُٹھا کر لے گئے۔ جو بچے وہ پناہ کی تلاش میں مارے مارے پھرتے د م توڑ گئے۔ بلکتے شیر خوار بچّے لرزتی، کانپتی ماؤں کی گود سے گر پڑے اور اُن کو اُٹھانے کا یارا کسی کو نہ تھا۔ بھاگے ہوئے، جان بچا کر آئے ہوئے، ظلم و بربرّیت کا دریا پار کر کے آئے ہوئے پناہ کے لیے مہاجر کیمپوں میں آ بیٹھے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








