خو اجہ سراؤں کے بھیک مانگنے کی حوصلہ شکنی کی جائے والدین اور لواحقین کو قانوناً پابند کیا جائے کہ انہیں ہنر مند بنائیں اور جائیداد میں وراثتی حصہ دیں
سیمینار کی تفصیلات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 276
عنوان: “گداگرمافیا۔ محرکات و انسداد“
یہ بھی پڑھیں: دبئی میں فیکٹری مالک نے پاک، بھارت میچ کے 700 ٹکٹ مفت تقسیم کردیئے
سیمینار کی اہمیت
سٹیزن کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام ہمدرد فاؤنڈیشن ہال میں منعقدہ سیمینار بعنوان "گداگری مافیا۔ محرکات و انسداد" میں مقررین نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ پیشہ ور گداگروں کو بھیک دینا بند کر دیں۔ صرف جان پہچان والے مستحقین کی مالی امداد کریں۔ علاوہ ازیں، عوامی خدمات انجام دینے والے اداروں کو اپنے عطیات اور زکوٰۃ ادا کرنے کی ترغیب دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایک اور رہنما کی حفاظتی ضمانت منظور
حکومتی اقدامات کی ضرورت
چاروں صوبائی حکومتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ انسداد گداگری کے قانون کو مؤثر بنانے اور قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ صوبائی حکومتیں گداگری مافیا کا سراغ لگائیں اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزائیں دلوا کر گداگری مافیا کی مکمل بیخ کنی کریں۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ: بھارت کا عمان کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
معذور افراد کی بحالی
معذور افراد اور مستحقین کو ہنرمند بنانے کے لیے ضلعی سطح پر مراکز بحالی قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر سال یوم انسداد گداگری بھی منایا جائے۔ خواجہ سراؤں کے بھیک مانگنے کی بھی حوصلہ شکنی کی جائے اور ان کے والدین کو قانوناً پابند کیا جائے کہ وہ خواجہ سراؤں کو تعلیمی اور ہنر مند بنائیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان، سری لنکا، زمبابوے کرکٹ سیریز، سیکیورٹی کیلئے آرمی اور رینجرز کے دستے طلب
بھیک مانگنے کی ناپسندیدگی
سیمینار میں مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ "دنیا بھر کے مہذب انسان دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے، بھیک مانگنے کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں۔" بھیک مانگنا انسانیت کی توہین اور عزت نفس کو مٹی میں ملانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: اس دفعہ آن لائن شاپنگ کرنے والوں پر ٹیکس لگا ہے، اگلی دفعہ نہ کرنے پر ٹیکس لگے گا
قرارداد کی پاسداری
اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد پاس کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ ملک سے گداگری کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے اس کے پسِ پردہ جرائم پیشہ مافیا کو جڑ سے اکھاڑنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے پاکستان اور بھارت میں آبی تناو بڑھنے کا خدشہ ہے: فنانشل ٹائمز
مقررین کی فہرست
سیمینار میں فہمیدہ مشتاق صوبائی سیکرٹری سماجی بہبود حکومت پنجاب مہمان خصوصی تھیں جبکہ دیگر مقررین میں شامل ہیں: پروفیسر بشریٰ ناہید، چودھری فیض نعیم وڑائچ، فرح زیبا، ایم اکرام چودھری، محمد سلیم چوہدری، رانا سید احمد، شاہینہ کوثر، ڈاکٹر محی الدین، ڈاکٹر پروفیسر محمد اکبر چوہدری، شاہد رانا ایڈووکیٹ اور میجر جنرل (ر) راحت لطیف۔
یہ بھی پڑھیں: دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے سعودی ولی عہد کی مسلسل حمایت کرتا ہوں، وزیراعظم شہبازشریف
سیشن کی قیادت
سیمینار کی صدارت کونسل کے صدر رانا امیر احمد خاں ایڈووکیٹ نے کی جبکہ نظامت کے فرائض معروف شاعر، ادیب اور قانون دان ظفر علی راجا نے انجام دئیے۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب “بک ہوم” نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








