یہ سچ ہے کہ کچھ کمپنیاں ملک سے جارہی ہیں :وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
وزیر خزانہ کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے یہ سچ ہے کہ کچھ فرمز ملک سے جارہی ہیں اور ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ٹیکس زیادہ ہے یا توانائی کی قیمتیں زیادہ ہیں، یہ حقیقی مسائل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بچے بھوک سے مر رہے ہیں، غزہ میں فوری غیرمشروط جنگ بندی ہونی چاہیے: عاصم افتخار
ٹیکس پالیسی میں تبدیلیاں
پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر کی توجہ ٹیکس اکٹھا کرنے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے لے کر فنانس ڈویژن کو منتقل کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال 38 ارب ڈالر کے ترسیلات زر موصول ہوئے اور رواں سال 41 ارب ڈالر کے ترسیلات زر موصول ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ذہنی معذور لڑکی کے ساتھ زیادتی کا مقدمہ، لاہور ہائیکورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا
اصلاحات کی اہمیت
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹیرف شعبے میں بڑے اصلاحات متعارف کرائے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ کچھ فرمز ملک سے جارہی ہیں، ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ٹیکس زیادہ ہے یا توانائی کی قیمتیں زیادہ ہیں تو یہ حقیقی مسائل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ایکس سروس مین سوسائٹی نے فوجی عدالتوں کو ضروری قرار دیدیا
مالیاتی نظام میں تبدیلیاں
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ غیر بینکنگ افراد کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے، برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف جانے کے لیے ٹیرف کو ریشنلائز کرنا ناگزیر ہے۔ رواں سال جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہو جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کا ٹک ٹاکرز اور انفلوئنسرز پر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ
اقتصادی ترقی کی ضرورت
انہوں نے مزید کہا کہ معاشی اصلاحات سے ہی ترقی ممکن ہے۔ حکومتی اصلاحات کا مقصد ملکی خزانے پر بوجھ کو کم کرنا اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔
برآمدات میں اضافہ
وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیرف میں کمی سے پاکستان کی برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ پہلی بار ٹیرف اصلاحات کے ذریعے خام مال پر ڈیوٹیز کو کم کیا گیا۔ موجودہ معاشی اصلاحات پاکستان کے لیے ایسٹ ایشیا موومنٹ ثابت ہوسکتی ہیں جبکہ قرضوں کی ادائیگی میں خود کمی نہیں آئی، ہم نے اقدامات کیے ہیں۔








