ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم
لاہور ہائیکورٹ کا تحریری حکم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کے خلاف کارروائی سے متعلق درخواست کا تحریری حکم جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: چاہت فتح علی خان نے میوزک اور ایکٹنگ اکیڈمی کھولنے کا دعویٰ کردیا
عدلیہ کی ساکھ کی حفاظت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی فرد عدلیہ کی ساکھ متاثر کرنے اور جھوٹے پروپیگنڈے میں ملوث پایا تو سخت قانونی کارروائی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے نہیں معلوم کہ ہماری شادی چلے گی یا نہیں، رجب بٹ کی انسٹا پوسٹ وائرل
درخواست کا پس منظر
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیاء ناجوہ نے پرویز الہیٰ ایڈووکیٹ کی درخواست پر چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا۔ درخواست گزار کی جانب سے میاں داؤد ایڈووکیٹ پیش ہوئے ہیں جنہوں نے بتایا کہ عدلیہ کی ساکھ متاثر کرنے کےلیے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا شروع کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کیس، عدالت نے ملزم حسن زاہد کی ضمانت منظور کرلی
سالانہ کارروائی کی اہمیت
درخواست گزار کے مطابق اس اہم معاملے پر کسی ریاستی ادارے نے کارروائی نہیں کی۔ عدالتی حکم میں کہا گیا کہ درخواست میں اٹھائے گئے نقاط اہم نوعیت کے ہیں، لہذا درخواست ریگولر کارروائی کےلیے منظور کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیوی کی بلیک میلنگ سے تنگ آدمی کی خود کشی، آخری پوسٹ میں ایلون مسک اور ٹرمپ کو ٹیگ کردیا، ایسی کہانی کہ ہر آنکھ اشکبار ہوجائے
قانونی تحفظات
کسی انفرادی شخص کو حق نہیں کہ آزاد اظہار کے نام پر عدلیہ کو سکینڈلائز کرے۔ قانون ایسے کرداروں کے خلاف کارروائی کی اجازت دیتا ہے۔ آئین میں عدلیہ کے احترام کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اگر کوئی فرد عدلیہ کی ساکھ متاثر کرنے اور جھوٹے پروپیگنڈے میں پایا تو سخت قانونی کارروائی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنانے کا فیصلہ مکمل حکومت کا ہے، فوج کا نہیں، وزیراعظم شہبازشریف
متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں
تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ ڈی جی این سی سی آئی اے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے میں ملوث تمام افراد کی نشاہدہی کرکے رپورٹ فائل کریں۔ آئندہ سماعت پر پیش ہو کر بتائیں کہ سائبر پولیس نے کارروائی کیوں نہ کی۔ چیئرمین پی ٹی اے بھی آئندہ سماعت پر اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔
آئندہ کی کارروائی
تحریری حکم میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت ایسے اقدامات کی سپورٹ نہیں کرتی ہے۔ درخواست پر مزید کارروائی پندرہ جنوری کو ہوگی.








