لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے مجرم کو بری کر دیا
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے معمولی جھگڑے پر شہری کو قتل کرنے کے الزام میں سزائے موت پانے والے مجرم کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: 85 ارب کی متوقع قیمت پر صرف 10 ارب روپے کی بولی: کیا ‘باکمال لوگوں’ کی ایئرلائن کی نجکاری مزید پیچیدہ ہو گئی؟
اپیل کا پس منظر
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اپیل پر فیصلہ سنایا، ٹرائل کورٹ نے 2022 میں مجرم الفت کو سزائے موت سنائی تھی تاہم عدالت نے چار سال بعد مجرم الفت کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: موبائل فون آپریٹرز نے ماہانہ پیکجز کی قیمتوں میں 20 سے 50 فیصد تک اضافہ کیوں کیا ؟ وجہ سامنے آگئی
عدالت کی سماعت
سماعت کے دوران ملزم کی جانب سے ایڈووکیٹ چوہدری ولایت علی نے دلائل پیش کیے، جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ پراسیکیوشن کے کیس میں متعدد نقائص پائے جاتے ہیں اور پراسیکیوشن وقوعہ کی رپورٹ میں تاخیر پر عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرپٹو ایکسچینج ’ بائنانس‘ کے بانی ’ چانگ پینگ ژاؤ‘ کو معاف کر دیا۔
واقعہ کی تحقیقات
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ وقوعہ دو گھنٹے کی تاخیر سے رپورٹ کیا گیا۔ پراسیکیوشن کے مطابق گولی لگنے کے بعد زخمی کو موٹر سائیکل پر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم نہ تو موٹر سائیکل اور نہ ہی ہسپتال لے جانے والے افراد کے کپڑوں کو ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا جبکہ واقعے کے نو گھنٹے بعد پوسٹ مارٹم کیا گیا جو کیس پر سوالیہ نشان ہے۔
آخری فیصلہ
مزید برآں عدالت نے ان وجوہات کی بنیاد پر ملزم کی سزا کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کر دیا، ملزم کے خلاف تھانہ صدر فاروق آباد میں قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج تھا۔








