پیپلزپارٹی کے عبید اللہ گورگیج بلوچستان اسمبلی کی رکنیت سے ہاتھ دھو بیٹھے
پیپلز پارٹی کے عبید اللہ گورگیج کی رکنیت کا خاتمہ
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) پیپلز پارٹی کے عبید اللہ گورگیج بلوچستان اسمبلی کی رکنیت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
یہ بھی پڑھیں: اگست 1947ء سے 1954ء تک آئین ساز اسمبلی میں کیا ہوا، کتنا کام کیا، کتنی سازشیں ہوئیں، 7 سال تک اسمبلی کے ارکان کیا کرتے رہے؟
الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ
بلوچستان ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی 44 کے 16 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ انتخابات کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: رجب بٹ کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہونے پر کراچی میں وکلا نے ہڑتال کا اعلان کر دیا
عطا محمد بنگلزئی کی درخواست
الیکشن ٹربیونل کی جانب سے پی بی 44 کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد پیپلز پارٹی کے عبید اللہ گورگیج رکن بلوچستان اسمبلی نہیں رہے۔ عبید اللہ گورگیج کی کامیابی کو نیشنل پارٹی کے عطا محمد بنگلزئی نے چیلنج کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس؛ بشریٰ بی بی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور، سماعت 18 نومبر تک ملتوی
انتخابات کی تفصیلات
واضح رہے کہ 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے عبید اللہ گورگیج 7 ہزار 125 ووٹ لے کر بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ جبکہ ان کے مدمقابل نیشنل پارٹی کے عطا محمد بنگلزئی نے 6 ہزار 385 ووٹ حاصل کئے تھے۔
عدالتی کارروائی
بعد ازاں نیشنل پارٹی کے عطا محمد بنگلزئی نے بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کرتے ہوئے عبید اللہ گورگیج کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا۔ انہوں نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ فارم 45 کے نتائج میں وہ کامیاب قرار پائے تھے، تاہم فارم 47 میں دھاندلی کرکے عبید اللہ گورگیج کو کامیاب قرار دے دیا گیا تھا۔








