شہباز شریف سے کسی کو کوئی ذاتی مسئلہ نہیں، مسئلے عمران خان، نواز شریف اور بینظیر بھٹو جیسے عوامی لیڈروں کے ساتھ ہوتے ہیں، فواد چودھری
فواد چودھری کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کسی کو کوئی ذاتی مسئلہ نہیں۔ مسائل عمران خان، نواز شریف اور بینظیر بھٹو جیسے عوامی لیڈروں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ لیکن ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں یہ خدشہ ضرور ہے کہ اگر سیاسی درجۂ حرارت نیچے نہ آیا تو سہیل وڑائچ کے ونڈر بوائے کو لانا پڑ جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین ایتھلیٹس کے لیے جنس ٹیسٹ لازمی قرار
مذاکرات کی اہمیت
وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندر مذاکرات کے حامی گروپ کی سوچ غالب آ چکی ہے اور اب اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ انقلاب نہیں بلکہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں کون سا نقطۂ نظر غالب آتا ہے۔ حکومت اور عمران خان کے پاس مذاکرات کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ موجودہ صورتحال ایک واضح "اسٹیل میٹ" کی عکاس ہے۔ اگر اس ڈیڈلاک کو برقرار رکھا گیا تو خیبر پختونخوا میں لانگ مارچ، اس کے نتیجے میں حکومتی سخت اقدامات، گورنر راج اور اسمبلیوں سے استعفوں جیسے فیصلے سامنے آ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ندا یاسر کے گھر غیرملکی ملازمہ کی چوری کی چونکادینے والی واردات
دہشت گردی اور افغانستان کا کردار
فواد چودھری نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی میں افغانستان ملوث ہے۔ سہیل آفریدی جو بات کر رہے ہیں، وہ غلط ہے۔ پی ٹی آئی میں یہ بھی واضح نہیں کہ کس نے کیا بات کرنی ہے۔ سلمان اکرم راجا کہتے ہیں کہ دہشت گردی افغانستان سے ہو رہی ہے، تو پھر سہیل آفریدی کو چاہیے تھا کہ وہ سلمان اکرم راجا کے اس بیان پر بات کرتے۔ سہیل آفریدی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس حوالے سے عمران خان کی پالیسی کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے ورکرز ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں: گورنر پنجاب
حکمت عملی کے مفروضات
انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے بعد دو مفروضوں کی بنیاد پر حکمتِ عملی بنائی گئی کہ عمران خان جیل نہیں کاٹ سکتے اور ایم کیو ایم کی طرح پی ٹی آئی بھی مائنس ہو جائے گی۔ اس پالیسی کے تحت پارٹی کی سینئر قیادت کو فارغ کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں موجودہ قیادت کو مہمان اداکار کے طور پر پارٹی دے دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا برطانیہ کا 4 روزہ دورہ مکمل، آج لندن سے امریکا روانہ ہوں گے
مذاکرات کی تشکیل
فواد چودھری نے کہا کہ مذاکرات کے لیے اگر ایک طرف اسپیکر قومی اسمبلی، رانا ثنا اللہ، اعظم نذیر تارڑ اور پیپلز پارٹی کی قیادت ہوگی تو دوسری طرف کون ہوگا؟ محمود اچکزی، علامہ ناصر عباس اور سلمان اکرم راجا؟ یہ لوگ عمران خان کو نہیں جانتے۔ جب تک دوسری طرف شاہ محمود قریشی، محمود الرشید اور یاسمین راشد کو نہیں بٹھایا جائے گا، آپ بات کس سے کریں گے؟
یہ بھی پڑھیں: زمین کو محفوظ بنانے کے لیے آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے: وزیر اعلیٰ پنجاب
عمران خان سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ ہماری ساری زندگی کی انویسٹمنٹ پی ٹی آئی میں ہے۔ آج پی ٹی آئی جو کچھ ہے، اس میں ہمارا بڑا حصہ ہے اور ہم جو کچھ ہیں، اس میں عمران خان کا بڑا ہاتھ ہے۔ اگر عمران خان ہمیں باہر نکالیں گے تو یہ ان کی مرضی ہے، لیکن میری آخری ملاقات ان سے اگست میں ہوئی اور ان کا رویہ کافی اچھا تھا۔ انہوں نے عمر ایوب سے کہا کہ فواد سے مشورہ کیا کرو۔ 9 مئی اور انتخابی تنازعات جیسے معاملات پر معذرت اور مفاہمت ممکن ہے، لیکن اس کے لیے ماحول بنانا ہوگا۔ سیاسی درجۂ حرارت کو نیچے لانا ہوگا اور تلخیاں کم کرنی ہوں گی۔
نئی معلومات
فواد چودھری نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی میں افغانستان ملوث ہے۔ سہیل آفریدی جو بات کر رہے ہیں، وہ غلط ہے۔ پی ٹی آئی میں یہ بھی واضح نہیں کہ کس نے کیا بات کرنی ہے۔ سلمان اکرم راja کہتے ہیں کہ دہشت گردی افغانستان سے ہو رہی ہے، تو پھر سہیل آفریدی کو چاہیے تھا کہ وہ سلمان اکرم راجا کے اس بیان پر بات کرتے۔ سہیل آفریدی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس حوالے سے عمران خان کی پالیسی کیا ہے۔ SCO اجلاس میں عمران خان نے اشرف غنی کو منہ پر کہا تھا کہ افغانستان پاکستان میں دہشت گردی کر رہا ہے۔ وہ یہ بات پانچ سو مرتبہ کہہ چکے ہیں۔
شہباز شریف سے کسی کو کوئی ذاتی مسئلہ نہیں۔ مسئلے عمران خان، نواز شریف اور بینظیر بھٹو جیسے عوامی لیڈروں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ لیکن ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں یہ خدشہ ضرور ہے کہ اگر سیاسی درجۂ حرارت نیچے نہ آیا تو سہیل وڑائچ کے ونڈر بوائے کو لانا پڑ جائے گا۔ @fawadchaudhry… pic.twitter.com/k1Lv1pCSCF
— WE News (@WENewsPk) January 14, 2026








