جماعت اسلامی نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی اداروں کا صدارتی آرڈیننس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا
جماعت اسلامی کا چیلنج
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) جماعت اسلامی نے اسلام آباد میں بلدیاتی اداروں کا صدارتی آرڈیننس عدالت میں چیلنج کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ ٹیرف پر پریشان ضرور مگر جوابی اقدام کا ارادہ نہیں: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
درخواست کی تفصیلات
جماعت اسلامی کی جانب سے یہ درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی۔ درخواست کا اندراج امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا کی طرف سے کیا گیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ شیڈول جاری ہونے کے بعد آرڈیننس کا جواز نہیں بنتا، اور آرڈیننس مکمل طور پر آئین کی خلاف ورزی ہے۔ جماعت اسلامی اس صدارتی آرڈیننس کو مسترد کرتی ہے اور اختیارات کی منتقلی اور انتخابات کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
صدارتی آرڈیننس کی تفصیلات
واضح رہے کہ دو روز قبل صدر مملکت آصف علی زرداری نے مقامی حکومت کے قیام سے متعلق اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کا صدارتی آرڈیننس جاری کیا تھا۔ اس آرڈیننس کے تحت وفاقی دارالحکومت میں میٹروپولیٹن کارپوریشن نظام ختم کیا جائے گا اور ٹاؤن کارپوریشنز قائم کی جائیں گی۔ اسلام آباد کو قومی اسمبلی کے تین حلقوں کی بنیاد پر تین ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کیا جائے گا۔







