امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی اڈوں سے کچھ اہلکاروں کو واپس بلانا شروع کر دیا
امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں فوجی اہلکاروں کی واپسی
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا نے بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اہم فوجی اڈوں سے کچھ اہلکاروں کو احتیاطی طور پر واپس بلانا شروع کر دیا ہے۔ بدھ کے روز ایک امریکی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ اقدام سیکیورٹی خدشات کے باعث کیا جا رہا ہے، تاہم اس کی تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے آئی ایم ایف کی رپورٹ کے حوالے سے اہم سوال اٹھا دیا
ایران کی دھمکی
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایک سینئر ایرانی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران نے ان پڑوسی ممالک کو خبردار کر دیا ہے جہاں امریکی فوجی موجود ہیں کہ اگر واشنگٹن نے ایران پر حملہ کیا تو امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اسی دن رائٹرز سے بات کرنے والے تین سفارتکاروں نے بتایا کہ قطر میں واقع امریکا کے العدید ایئر بیس سے کچھ اہلکاروں کو بدھ کی شام تک روانہ ہونے کی ہدایت دی گئی ہے، کیونکہ واشنگٹن کی جانب سے ایران میں مظاہرین کے تحفظ کے لیے ممکنہ مداخلت کے اشارے دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آپ نے گھبرانا نہیں ، ٹرمپ کا معاشی بے یقینی سے دوچار امریکی شہریوں کو مشورہ
قطر کی جانب سے کوئی سرکاری تبصرہ نہیں
دوحہ میں امریکی سفارت خانے نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ قطر کی وزارتِ خارجہ نے بھی رائٹرز کی درخواست پر فوری ردعمل نہیں دیا۔ بعد ازاں قطر کے انٹرنیشنل میڈیا آفس نے میڈیا رپورٹس پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ بعض اہلکاروں کی روانگی موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں کی جا رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ریاستِ قطر اپنے شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے تمام ضروری سیکیورٹی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں اہم تنصیبات اور فوجی مراکز کا تحفظ بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سی ٹی ڈی کی موسیٰ خیل،بلوچستان میں کارروائی، 3 دہشتگرد ہلاک، دو گرفتار
العدید ایئر بیس کی اہمیت
العدید ایئر بیس مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے جہاں تقریباً 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ ایک سفارتکار کے مطابق یہ اقدام مکمل انخلا نہیں بلکہ صرف فوجی پوزیشن میں تبدیلی ہے، اور اس کے لیے کوئی مخصوص وجہ ان کے علم میں نہیں لائی گئی۔
پچھلے حملے کی یاد
یاد رہے کہ گزشتہ برس بھی امریکا نے ایران پر فضائی حملوں سے ایک ہفتہ قبل مشرقِ وسطیٰ میں موجود اپنے بعض فوجی اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو اڈوں سے منتقل کیا تھا۔ جون میں امریکی حملوں کے بعد ایران نے قطر میں موجود امریکی اڈے پر میزائل حملہ بھی کیا تھا۔








