ایران پر ممکنہ امریکی حملہ، ٹرمپ کے پاس فوجی آپشنز کیا ہیں؟
موجودہ صورت حال
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی مظاہرین کو یہ پیغام دینے کے بعد کہ مدد راستے میں ہے، ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ واشنگٹن بارہا یہ عندیہ دے چکا ہے کہ اگر ایران میں جاری مظاہروں کے دوران پرتشدد کریک ڈاؤن ہوا تو امریکا فوجی مداخلت پر غور کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم ڈی کیٹ 2025ء کے لیے 1 لاکھ 40 ہزار امیدواروں کی رجسٹریشن، ٹیسٹ 26 اکتوبر کو ہوگا
مستقبل کی منصوبہ بندی
الجزیرہ کے مطابق بدھ کے روز یہ بات سامنے آئی کہ قطر میں واقع امریکا کے العدید ایئر بیس سے بعض اہلکاروں کو روانگی کا مشورہ دیا گیا ہے، جس سے نہ صرف امریکی حملے کے خدشات بڑھے ہیں بلکہ ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کا خطرہ بھی نمایاں ہو گیا ہے۔ ایران میں مظاہروں کا آغاز دسمبر 2025 کے آخر میں خراب معاشی حالات کے خلاف ہوا تھا، تاہم یہ احتجاج جلد ہی 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے قائم مذہبی قیادت کے لیے ایک بڑے چیلنج میں بدل گئے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور؛موٹرسائیکل سوار گلبرگ فلائی اوور سے گر کر جاں بحق
ٹرمپ کا پیغام
منگل کے روز ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایرانی مظاہرین کو یقین دلایا کہ مدد پہنچنے والی ہے، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں تیز ہو گئیں کہ امریکا کسی بھی وقت عملی قدم اٹھا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر امریکا واقعی ایران میں مداخلت کرتا ہے تو اس کے پاس کیا آپشنز ہیں اور وہ کتنے قابلِ عمل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور گیریژن پولو گراؤنڈ کے زیراہتمام 10واں بیٹل ایکس پولوکپ 2024 جاری
امریکی نیوی کی طاقت
امریکی بحریہ کا سب سے بڑا اور طاقتور طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ جون کے آخر میں ورجینیا سے روانہ ہو کر بحیرۂ روم پہنچا تھا، تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا جا سکے۔ تاہم اب یہ جہاز جنوبی امریکا کے قریب کیریبین سمندر میں امریکی سدرن کمانڈ کے تحت ایک الگ آپریشن کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر فورڈ کو دوبارہ مشرقِ وسطیٰ بھیجا جائے تو اسے کیریبین سے بحیرۂ روم پہنچنے میں کم از کم دس دن اور وہاں سے خلیج تک مزید ایک ہفتہ درکار ہوگا۔ اس وقت امریکا کی بحری طاقت خطے میں جون کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی ارکان پارلیمنٹ کا عمران خان کی رہائی کا مطالبہ
فوجی تنصیبات کی موجودگی
اس کے باوجود امریکا مشرقِ وسطیٰ میں کم از کم 19 مقامات پر مستقل اور عارضی فوجی تنصیبات رکھتا ہے، جن میں سے آٹھ مستقل اڈے بحرین، مصر، عراق، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں قائم ہیں۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی حکمتِ عملی مختصر، تیز اور کم خطرے والی کارروائیوں پر مشتمل رہی ہے، جیسا کہ وینزویلا میں کارروائی یا 2020 میں بغداد میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ڈرون حملے میں ہلاکت تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے اب تک کتنے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا؟ اسرائیلی فوج نے تعداد جاری کر دی
ایران کی قیادت کا امکان
ٹرمپ اس سے قبل یہ دعویٰ بھی کر چکے ہیں کہ انہیں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقام کا علم ہے، جس سے یہ امکان زیرِ بحث آیا کہ امریکا ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے پر غور کر سکتا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ایسی کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں شدید ردعمل آ سکتا ہے۔ اگر سپریم لیڈر کو ہٹانے کی کوشش کی گئی تو امکان ہے کہ پاسداران انقلاب اقتدار سنبھال لے، جس کے نتیجے میں ایران ایک مذہبی جمہوری نظام سے براہِ راست فوجی حکمرانی کی طرف جا سکتا ہے، جو امریکا کے لیے مزید پیچیدہ اور مخالف صورتِ حال ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، اقوام متحدہ ماہرین نے بھارت کو انتباہ جاری کر دیا
آپریشن کی مشکلات
ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا جیسی کارروائی ایران میں دہرانا نہایت مشکل ہوگا کیونکہ فاصلے زیادہ ہیں، ایرانی سیکیورٹی الرٹ ہے اور کسی خفیہ آپریشن کے امکانات محدود ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی بعید از قیاس ہے کہ امریکا ایران میں زمینی افواج اتارے گا۔ ٹرمپ طویل المدت جنگوں اور ریاست سازی کے حامی نہیں رہے، جیسا کہ افغانستان سے امریکی انخلا سے واضح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلی دفعہ بھاپ کے انجن اور گاڑی کو دیکھا، خوفزدہ ہو گیا کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر بھاگ کھڑا ہوا، کافی دور جا کر شتر مرغ کی طرح سر جھکا کر ریت پر بیٹھ گیا
افغانستان سے انخلا کا اثر
ٹرمپ کے دور میں امریکا نے افغانستان میں اپنی طویل ترین جنگ ختم کرنے کی سمت قدم بڑھایا تھا، جس کے تحت 2020 میں طالبان کے ساتھ دوحہ معاہدہ طے پایا۔ اگرچہ فوجی انخلا عملی طور پر 2021 میں مکمل ہوا، مگر اس فیصلے کی بنیاد ٹرمپ دور میں رکھی گئی تھی۔
ماہرین کی رائے
مجموعی طور پر ماہرین کی رائے ہے کہ امریکا اگر ایران کے خلاف کوئی قدم اٹھاتا ہے تو وہ محدود اور ہدفی کارروائی تک محدود رہے گا، جبکہ مکمل جنگ یا زمینی مداخلت کا امکان انتہائی کم ہے، کیونکہ اس کی قیمت نہ صرف خطے بلکہ خود امریکا کے لیے بھی بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔








