گورداسپور کا ضلع ہندوستان میں چلے جانے کی سازش میں راجہ ہری سنگھ برابر کا شریک تھا، لارڈ ماؤنٹ بیٹن فوج بھیجتا رہا، طاقت کا توازن بدل ڈالا

مصنف: ع غ جانباز

قسط: 28

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس کی تعیناتی، آئینی بینچ، اور سود کے خاتمے سے متعلق 26ویں آئینی ترمیم کے اہم نکات

کشمیر کا الحاق

گورداسپور کا ضلع ہندوستان میں چلے جانے کی سازش میں راجہ ہری سنگھ والیٔ جمّوں کشمیر بھی برابر کا شریک تھا۔ اِس لیے کہ اُس نے خط کے ذریعے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو اطلاع دی کہ وہ کشمیر کا الحاق ہندوستان کے ساتھ کرنا چاہتا ہے لہٰذا اِس کی منظوری دی جائے اور اُس کی فوری مدد کی جائے۔ وہ تو پہلے ہی انتظار میں تھا کیونکہ ہندوؤں سے پہلے ہی اِس سلسلے میں گٹھ جوڑ ہو چکا تھا۔ لہٰذا اِس الحاق کو فوری طور پر منظور کر لیا گیا اور ہندوستانی فوج کے دستے کشمیر پہنچ گئے۔

یہ بھی پڑھیں: علاقائی حریف کی سرپرستی میں دہشت گردی کا سامنا ہے: پاکستانی قونصلر کا اقوام متحدہ میں خطاب

پُونچھ کی آبادی کا ردعمل

پُونچھ کی آبادی میں ایک کثیر تعداد سابق فوجیوں کی تھی۔ اُنہوں نے اِس الحاق کی مخالفت کی اور نعرۂ تکبیر بلند کرتے ہوئے، کشمیری عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے جنگ کی ابتدا کی۔ اِس نعرے کو پذیرائی ملی۔ صوبہ سرحد، مغربی پنجاب اور قبائلی علاقوں سے مجاہدین مدد کے لیے پہنچ گئے۔ صورتِ حال یہ تھی کہ اِن مجاہدین کی آمد پر ڈوگرہ بھاگ رہے تھے۔ سیوا سنگھی اور اکالی دل والے جو اِن کی مدد کو آئے وہ بھی دُم دبا کر بھاگ نکلتے، لیکن لارڈ ماؤنٹ بیٹن مزید ہندوستانی فوج بھیجتا رہا اور اِس طرح اُس نے طاقت کا توازن بدل کر ہندوستان کے حق میں کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی شہری نے تاج Mahal کی وراثت کا دعویٰ کردیا

جُونا گڑھ کا حال

سوچنے کی بات تھی۔ جُونا گڑھ کی ریاست پاکستان میں شامل ہوگئی۔ وہاں کا حاکم مسلمان تھا، لیکن زیادہ تر آبادی ہندوؤں کی تھی۔ وہاں بھی ہندوستانی فوج بھیج دی گئی، لیکن کشمیر میں جہاں مسلمانوں کی اکثریّت تھی وہاں یہ بات نہ مانی گئی۔ ہندو گورے گٹھ جوڑ سے اصولوں کی دھجیاں بکھیری جا رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: بارش کے باوجود پورے کینٹ میں کہیں پانی نہیں تھا: اداکارہ فضاء علی بھی پنجاب حکومت کی کارکردگی کی معترف

تحریک آزادی

صوبہ سرحد میں بھی ہندو کی شہ پر سرحدی گاندھی کی قیادت میں آزادی کا نعرہ لگایا گیا لیکن اِس نعرے کو کشمیر کی جنگ آزادی لے دے گئی اور سرحد کا اِلحاق پاکستان سے ہوگیا۔ اُدھر کلکتہ میں جو فساد برپا کیا گیا وہ مرحلہ وار نواکھلی تک جا پہنچا۔ پھر بہار اور یُوپی کے مسلمانوں پر یہ قیامت ٹوٹی، جہاں زن و مرد بوڑھے جواں اور بچّوں کو بے دریغ قتل کیا گیا۔ وہاں حملہ آوروں کو ہندو حکومت کی پُشت پناہی حاصل رہی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک متعارف کرادیا

مسلمانوں کی نقل مکانی

آخری حل کے طور پر یہی تجویز سامنے آئی کہ گاؤں، بستیوں، شہروں سے حملہ آوروں سے بچ نکلنے والے زن و مرد، بچّوں، بوڑھوں کو کیمپوں میں اکٹھا کر کے بسّوں، ٹرکوں اور ریل کے ذریعے پاکستان پہنچایا جائے لیکن مسلمانوں کے اکثریتی اضلاع ہونے کی وجہ سے یہ تعداد اتنی زیادہ تھی کہ یہ انتظامات اُونٹ کے منہ میں زیرہ کی مثل ثابت ہوئے اور اکثریت کو قافلوں کی شکل میں سڑک کے راستے پیدل روانہ کرنا پڑا۔

بدھوال گاؤں کی صورتحال

"بڑوہ" ضلع جالندھر مشرقی پنجاب انڈیا کا ایک دُور اَفتادہ گاؤں دو برادریوں، ارائیں اور راجپوتوں پر مشتمل تھا۔ مسلمانوں کا ایک بڑا گاؤں ہونے کی وجہ سے غالباً ابھی تک ہندو سِکھ، جتّھوں کی مجرمانہ یلغار سے بچا ہوا تھا۔ ایک اُڑتی ہوئی یہ خبر بھی اُس بچاؤ کا سبب بنی تھی کہ اِس گاؤں کو کسی بیرونی تنظیم سے اسلحہ کی سپلائی مل چکی ہے۔

حالات کی اِس سنگینی کے باوجود اُن میں سے کوئی بھی نہ نقل مکانی کر کے گاؤں چھوڑ کر گیا نہ ہی اُنہوں نے ابھی تک اپنی حفاظت کا ذمّہ گاؤں کے چوہدریوں سے لیا، کیونکہ اُن کی سوچ ابھی اِس نہج پر نہ پہنچی تھی کہ اِس گاؤں کے لوگوں سے ہمیں بھی کوئی خطرہ ہوسکتا ہے۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...