امریکا نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے لیے ویزا پراسیسنگ غیر معینہ مدت تک منجمد کر دی
امریکا نے ویزا پراسیسنگ معطل کر دی
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا نے پاکستان، ایران، روس، صومالیہ، افغانستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی ہے۔ یہ فیصلہ 21 جنوری سے نافذ العمل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی سے متعلق قوانین کے حوالے سے بڑا فیصلہ کر لیا گیا
کریک ڈاؤن کی وجوہات
امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک میمو میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ان درخواست گزاروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے کیا جا رہا ہے جنہیں امریکا میں ”پبلک چارج“ یعنی ریاستی فلاحی سہولیات پر بوجھ بننے کا خدشہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی نے بلدیاتی نظام سے متعلق بل پر بات نہ کی تو 18ویں ترمیم بھی ختم ہوگی اور سندھ میں صوبہ بھی بنے گا، مصطفیٰ کمال
درخواستوں کی جانچ
فوکس نیوز ڈیجیٹل کے مطابق اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے قونصلر افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ موجودہ قوانین کے تحت ویزا درخواستیں مسترد کریں جبکہ امیگرنٹ ویزا اسکریننگ اور ویٹنگ کے طریقہ کار کا ازسرِنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ کے جہازوں کا خلیج عرب کے ممالک کویت اور عراق کا دورہ
ویزا کی عدم فراہمی کے ممکنہ اسباب
ذرائع کے مطابق عمر رسیدہ، زیادہ وزن، ماضی میں حکومتی مالی امداد لینے والے یا کسی قسم کی اداراجاتی دیکھ بھال (Institutionalization) کا ریکارڈ رکھنے والے افراد کو ویزا دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان میں زلزلے کے شدید جھٹکے
اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا بیان
اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان ٹومی پگٹ نے کہا “امریکا اپنی طویل المدتی قانونی اتھارٹی استعمال کرتے ہوئے ایسے ممکنہ تارکین وطن کو نااہل قرار دے گا جو امریکی عوام کی سخاوت سے فائدہ اٹھانے یا فلاحی نظام پر بوجھ بننے کا ارادہ رکھتے ہوں۔”
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ ارمینا خان کی کار کو ٹرک نے ٹکّر مار دی، دلچسپ تصاویر سامنے آئیں
علیحدہ ممالک سے امیگریشن معطلی
انہوں نے مزید کہا “ان 75 ممالک سے امیگریشن عارضی طور پر روکی جا رہی ہے تاکہ ایسے غیر ملکیوں کی آمد روکی جا سکے جو ویلفیئر اور عوامی فوائد پر انحصار کریں۔”
یہ بھی پڑھیں: رینجرز اور ایف سی کو خصوصی اختیارات دے دیئے گئے
پبلک چارج کا قانون
اگرچہ پبلک چارج کی شق کئی دہائیوں سے امریکی قانون کا حصہ ہے، تاہم اس پر عملدرآمد مختلف حکومتوں میں مختلف رہا ہے اور قونصلر افسران کو اس حوالے سے خاصی صوابدید حاصل رہی ہے۔
ویزا پابندی کی زد میں آنے والے ممالک
ویزا پابندی کی زد میں آنے والے ممالک کی مکمل فہرست:
افغانستان، البانیہ، الجزائر، اینٹیگوا و باربوڈا، آرمینیا، آذربائیجان، بہاماس، بنگلہ دیش، بارباڈوس، بیلاروس، بیلیز، بھوٹان، بوسنیا، برازیل، برما، کمبوڈیا، کیمرون، کیپ وردے، کولمبیا، کوٹ ڈی آئیوری، کیوبا، جمہوریہ کانگو، ڈومینیکا، مصر، اریٹیریا، ایتھوپیا، فجی، گیمبیا، جارجیا، گھانا، گریناڈا، گوئٹے مالا، گنی، ہیٹی، ایران، عراق، جمیکا، اردن، قازقستان، کوسوو، کویت، کرغزستان، لاؤس، لبنان، لائبیریا، لیبیا، مقدونیہ، مالدووا، منگولیا، مونٹی نیگرو، مراکش، نیپال، نکاراگوا، نائجیریا، پاکستان، جمہوریہ کانگو (ریپبلک آف دی کانگو)، روس، روانڈا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، سینٹ لوشیا، سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گریناڈائنز، سینیگال، سیرا لیون، صومالیہ، جنوبی سوڈان، سوڈان، شام، تنزانیہ، تھائی لینڈ، ٹوگو، تیونس، یوگنڈا، یوراگوئے، ازبکستان اور یمن۔








