ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن، 3 ہزار 428 افراد ہلاک، ایران ہیومن رائٹس
ایران میں جاری احتجاجی مظاہرے
اوسلو (ڈیلی پاکستان آن لائن) ناروے میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایران ہیومن رائٹس کے مطابق ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں کم از کم 3 ہزار 428 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 10 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو سب سے پہلی کال کس دوست ملک سے آئی؟ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا پریس کانفرنس میں اہم انکشاف
ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ
اے ایف پی کے مطابق تنظیم نے بتایا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں حالیہ اضافہ ایران کی وزارتِ صحت اور وزارتِ تعلیم کے اندرونی ذرائع سے موصول ہونے والی نئی معلومات کی بنیاد پر سامنے آیا ہے۔ ایران ہیومن رائٹس کے مطابق صرف 8 سے 12 جنوری کے درمیان، جو احتجاجی تحریک کا سب سے شدید مرحلہ تھا، کم از کم 3 ہزار 379 افراد مارے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ٹیرف کے دباؤ، مودی سرکار نے بھارت میں جی ایس ٹی کے حوالے سے بڑا قدم اٹھا لیا
تنظیم کی مذمت
تنظیم کے ڈائریکٹر محمود امیری مقدم نے حالیہ دنوں میں سڑکوں پر مظاہرین کے بڑے پیمانے پر قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی فورسز نے بے رحمانہ طاقت کا استعمال کیا۔ ایران ہیومن رائٹس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جاری کردہ اعداد و شمار اصل ہلاکتوں کی کم از کم تعداد ہیں اور حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
اطلاعات پر پابندیاں
ادھر ایران میں اطلاعات پر سخت پابندیوں، انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اور میڈیا پر قدغنوں کے باعث درست معلومات کا حصول مشکل بنا دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کئی ہلاکتیں اب تک رپورٹ ہی نہیں ہو سکیں۔








