وینزویلا میں امریکی کارروائی کے دوران چینی اور روسی دفاعی نظام کام نہ آیا، بزنس انسائڈر
چین کے فضائی دفاعی ریڈار کی ناکامی
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) چین کے انتہائی تشہیر یافتہ فضائی دفاعی ریڈار اُس وقت کوئی خاص کردار ادا نہ کر سکے جب امریکا نے رواں ماہ وینزویلا میں صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے لیے ایک بڑے اور اچانک فضائی حملے کی کارروائی کی۔ وینزویلا کی فوج کے پاس چین کے فراہم کردہ اینٹی ایئرکرافٹ ریڈار موجود تھے، مگر امریکی فضائی یلغار کے دوران یہ نظام عملی طور پر بے اثر دکھائی دیے۔
یہ بھی پڑھیں: کبھی کپتانی کی خواہش نہیں کی اور نہ کپتانی مانگی، محمد رضوان کی میڈیا سے گفتگو
امریکی آپریشن کی تفصیلات
بزنس انسائڈر کے مطابق امریکی کارروائی، جسے “آپریشن ایبسولیُوٹ ریزولو” کا نام دیا گیا، میں 150 سے زائد امریکی فوجی طیارے شامل تھے۔ اس وسیع آپریشن کے دوران امریکا کا کوئی طیارہ مار گرایا نہیں جا سکا۔ صرف ایک ہیلی کاپٹر کو مبینہ طور پر مشین گن کی فائرنگ سے نقصان پہنچا، مگر وہ بھی آپریشنل رہا۔ یہ کارروائی نہ صرف اسٹیلتھ طیاروں بلکہ پرانے چوتھی جنریشن کے جنگی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں پر مشتمل تھی، اور امریکی اسپیشل فورسز نے دارالحکومت کاراکاس کے قلب میں کارروائی کی۔
یہ بھی پڑھیں: 10 سالوں میں سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں صرف ایک فیصد کمی ہوئی: یونیسکو
چینی ریڈار کی کارکردگی
وینزویلا کے پاس چین کے JY-27A موبائل ریڈار سسٹمز موجود ہیں، جنہیں بیجنگ جدید اور اعلیٰ صلاحیت کا حامل قرار دیتا رہا ہے۔ چینی دعووں کے مطابق یہ ریڈار امریکی F-22 اور F-35 جیسے اسٹیلتھ طیاروں کو بھی 150 میل سے زیادہ فاصلے پر شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم حالیہ امریکی حملے کی کامیابی نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ یا تو یہ ریڈار جدید الیکٹرانک وارفیئر کے سامنے ناکام ہو گئے، یا پھر انہیں درست طریقے سے استعمال ہی نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں پرائیویٹ حج سکیم کے تحت درخواستوں کی وصولی کا آج سے آغاز ہو گیا
چینی وزارت خارجہ کا جواب
حملے کے بعد ایک جاپانی صحافی نے چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سے سوال کیا کہ چین کی جانب سے وینزویلا کو فراہم کیا گیا بڑا فوجی سازوسامان عملاً غیر مؤثر کیوں ثابت ہوا۔ چینی ترجمان نے اس سوال کے جواب میں امریکی حملے کی مذمت کی، مگر ریڈار کی کارکردگی پر براہِ راست بات کرنے سے گریز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی کا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافے کا مطالبہ
ریڈار سسٹم کی خصوصیات
JY-27A ایک طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والا ریڈار سسٹم ہے، جسے 2014 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اس میں متعدد اینٹینا پینلز، علیحدہ کنٹرول گاڑیاں اور ایسے فیچرز شامل ہیں جن کے بارے میں چین کا دعویٰ ہے کہ یہ جامنگ سے بچاؤ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بعد ازاں اس کا نیا ورژن JY-27V بھی تیار کیا گیا۔ گزشتہ سال جب وینزویلا نے یہ ریڈار خریدے تو یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ انہوں نے ساحل کے قریب موجود امریکی F-35B طیاروں کو ٹریک کر لیا تھا، جسے امریکی اسٹیلتھ برتری کے لیے ایک چیلنج قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ کی پاکستان کیخلاف پوزیشن مضبوط، جوئے روٹ کی ڈبل سینچری، 12 رنز کا خسارہ باقی
فوجی حکام کی رپورٹ
ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر فیلو مائیکل سوبولک کے مطابق، اصل امتحان امن کے دعووں میں نہیں بلکہ جنگ کے لمحے میں ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ریڈار دشمن کے الیکٹرانک حملوں کو برداشت نہ کر سکیں یا آپریٹرز انہیں مؤثر انداز میں استعمال نہ کر پائیں تو وہ فضائی دفاع کے لیے بے فائدہ ہو جاتے ہیں۔ فضائی دفاع میں ریڈار مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہی نظام بتاتے ہیں کہ کس ہدف کو نشانہ بنانا ہے اور کون سا ہتھیار استعمال کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی کمپنی کے نمائندے کا کچھ عرصہ قبل پاکستان میں خفیہ دورہ، فیلڈ مارشل سمیت کئی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں
امریکی حملے کا اثر
امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے طیاروں نے وینزویلا کے فضائی دفاع کو باآسانی دباؤ میں لے لیا۔ وینزویلا کے دفاعی نظام میں روسی ساختہ S-300VM، Buk-M2، پرانے S25 Pechora-2M میزائل سسٹمز اور چینی ریڈار شامل تھے، مگر یہ سب جدید ترین ورژنز نہیں تھے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے حملے کے بعد روسی فضائی دفاع کا مذاق اڑایا، تاہم چینی ریڈارز کے بارے میں کوئی براہِ راست تبصرہ نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی میں لگژری گاڑیوں کی خصوصی نمبر پلیٹس کی مہنگی ترین نیلامی
معاشرتی چیلنجز
ماہرین کے مطابق فضائی دفاع صرف ہتھیاروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مربوط نیٹ ورک ہوتا ہے، جس میں تربیت یافتہ عملہ اور مؤثر کمانڈ اینڈ کنٹرول ناگزیر ہوتا ہے۔ میامی اسٹریٹجک انٹیلیجنس انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق وینزویلا کا فضائی دفاع گزشتہ سال تک انتہائی خراب حالت میں تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 60 فیصد سے زائد ریڈار غیر فعال تھے، جنگی طیارے شاذ و نادر ہی پرواز کرتے تھے، اور ملک کو روس اور چین سے مطلوبہ مینٹیننس اور اسپیئر پارٹس بھی نہیں مل رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: گنڈاپور بتائیں وہ کس کے این او سی پر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ بنے؟ حافظ حمداللہ
نتائج اور تجزیے
نیویارک ٹائمز کی ایک تحقیق میں بھی انکشاف ہوا کہ وینزویلا کے کئی فضائی دفاعی نظام یا تو اسٹوریج میں پڑے تھے یا مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے تھے، جس کے باعث امریکا کے اچانک حملے کا مؤثر جواب ممکن نہ رہا۔ رپورٹس کے مطابق وینزویلا کی فوج کے پاس نہ تو تکنیکی مہارت تھی اور نہ ہی پرزہ جات، جو ان نظاموں کو فعال رکھ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوادر میں مذبح خانے کی تعمیر شروع، پاکستان سالانہ کتنے لاکھ گدھوں کی کھالیں اور گوشت چین کو برآمد کریگا؟ جانیے
امریکی کارروائی کی تکمیل
اگرچہ یہ ناکامی جزوی طور پر وینزویلا کے آپریٹرز کی نااہلی کی وجہ سے ہو سکتی ہے، مگر اس واقعے نے روسی اور چینی دفاعی نظاموں کی ساکھ پر سوال ضرور اٹھا دیے ہیں۔ سوبولک کے مطابق یہ امریکی صلاحیتوں پر اعتماد بڑھاتا ہے اور اس کے حریفوں کی تکنیکی طاقت پر شکوک پیدا کرتا ہے، اگرچہ یہ فرق رکھنا ضروری ہے کہ مسئلہ نظام کا تھا یا اسے چلانے والوں کا۔
خلاصہ
امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی میں امریکا کا کوئی فوجی ہلاک نہیں ہوا۔ تقریباً 150 طیاروں اور 200 کے قریب امریکی اہلکاروں پر مشتمل اس مشن میں صرف سات فوجی زخمی ہوئے، جبکہ وینزویلا کا فضائی دفاع عملاً بے بس نظر آیا۔








