6 سے 8 فروری کے علاوہ کسی بھی دن پتنگ بازی غیر قانونی تصور کی جائے گی، خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی، پنجاب حکومت
پنجاب میں پتنگ بازی پر پابندی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر داخلہ پنجاب نے واضح کیا ہے کہ پتنگ بازی پر پابندی برقرار ہے۔ جس کے باعث بسنت منانے کے شوقین افراد کی قبل از وقت تیاریاں دھری کی دھری رہ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے حملے سے ایک رات پہلے کیا کام کیا کہ اگلے دن ایس 400 تباہ کرنا انتہائی آسان ہوگیا؟ بھارت کے سابق پائلٹ کا حیران کن انکشاف
خلاف ورزی پر سخت کارروائی
صوبائی محکمہ داخلہ نے پتنگ بازی پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والوں اور پتنگ بازی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت جاری کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: جنگلات اراضی کیس: تمام صوبوں اور وفاقی حکومت سے تفصیلی رپورٹس طلب
محفوظ بسنت کی اجازت
محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں بسنت کی محدود اور محفوظ اجازت صرف 6 سے 8 فروری تک ہو گی۔ اس کے علاوہ کسی بھی دن پتنگ بازی غیر قانونی تصور کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزارت مذہبی امور نے پی ڈبلیو ڈی ملازمین کو ادارے میں ضم کرنے سے معذرت کرلی
پابندی کی سنگینی
حکام کے مطابق مقررہ دنوں سے قبل یا بعد میں پتنگ بازی قانوناً جرم ہو گی۔ محکمہ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ پتنگ بازی اور پتنگ سازی پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: نجی ہوٹل میں آتشزدگی کا مقدمہ مالک سمیت 6 افراد کیخلاف درج
سزا کی تفصیلات
محکمہ داخلہ کے مطابق پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 5 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ جبکہ پتنگ یا ڈور بنانے یا فروخت کرنے پر 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا。
پتنگ بازی کے خطرات
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں شہر میں بڑھتی ہوئی پتنگ بازی کے باعث قاتل ڈور سے کئی افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ جس کے پیش نظر سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ پابندی کا مقصد شہریوں کو گلے پر ڈور پھرنے کے باعث جاں بحق ہونے اور چھتوں سے گرنے کے واقعات سے محفوظ رکھنا ہے。








