بارڈر کی بندش اور آئے روز دہشت گردی کے واقعات نے خیبرپختونخوا کا امن و سکون تباہ کر کے رکھ دیا ہے، سراج الحق
سابق امیر جماعت اسلامی کا بیان
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ بارڈر کی بندش اور آئے روز دہشت گردی کے واقعات نے خیبرپختونخوا کا امن و سکون تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے متعدد حملوں میں صرف خواتین اور بچوں کو ہی نشانہ بناکر قتل کیا: اقوام متحدہ
بارڈر فورس کا قیام
اس سنگین صورتحال کا واحد مؤثر حل یہ ہے کہ مقامی افراد پر مشتمل پچاس ہزار اہلکاروں کی بارڈر فورس قائم کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل کمیشن نے پشاور ہائی کورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کو مستقل اور 4 ایڈیشنل ججز کی مدت میں 6 ماہ توسیع کی منظوری دے دی
مقامی آبادی کی اہمیت
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صدیوں سے اس خطے کی سرحدوں کی نگہبانی مقامی آبادی ہی کرتی آئی ہے، جو جغرافیہ، راستوں اور حالات سے بخوبی واقف ہے۔
روزگار کے مواقع
اس اقدام سے نہ صرف سرحدی علاقوں میں امن و امان بہتر ہوگا بلکہ صوبے کے ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جو پائیدار امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
بارڈر کی بندش اور آئے روز دہشت گردی واقعات نے خیبرپختونخوا کا امن و سکون تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ اس سنگین صورتحال کا واحد مؤثر حل یہ ہے کہ مقامی افراد پر مشتمل پچاس ہزار اہلکاروں کی بارڈر فورس قائم کی جائے۔ صدیوں سے اس خطے کی سرحدوں کی نگہبانی مقامی آبادی ہی کرتی آئی ہے، جو…
— Siraj ul Haq (@SirajOfficial) January 15, 2026








