ٹرمپ نے پیغام دیا ہے کہ امریکا ایران پر حملہ نہیں کرے گا، ایرانی سفیر رضا امیری مقدم
ایران کے سفیر کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو یہ پیغام دیا ہے کہ امریکا ایران پر حملہ نہیں کرے گا اور ساتھ ہی ایران سے بھی تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان محفوظ اور خوشحال علاقائی ماحول کی تعمیر کا خواہاں ہے، پیچیدہ خطرات کے اس دور میں فوجی تعاون ناگزیر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر
نیشنل رحمتہ للعالمین اتھارٹی کا دورہ
ڈان کے مطابق ایرانی سفیر نے یہ بات جمعرات کے روز نیشنل رحمتہ للعالمین اتھارٹی کے دورے کے دوران کہی، جہاں انہوں نے اتھارٹی کے چیئرمین خورشید احمد ندیم سے ملاقات کی۔ ان کے مطابق انہیں رات تقریباً ایک بجے ایسی اطلاعات موصول ہوئیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ جنگ نہیں چاہتے اور انہوں نے ایران سے کہا ہے کہ وہ خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ نہ بنائے۔
یہ بھی پڑھیں: عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس چل بسے
حالیہ مظاہروں پر تبصرہ
ایران میں حالیہ مظاہروں کے حوالے سے رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ عوام کو احتجاج کا جائز حق حاصل ہے اور ایرانی حکومت نے مظاہرین سے بات چیت بھی کی۔ تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ امریکی اور مغربی میڈیا کی کوریج نے تشدد کو ہوا دی، جس کے باعث صورتحال مزید بگڑ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں سابق شوہر کے کزن نے دوستوں کے ساتھ مل کر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
امریکا اور اسرائیل کی مداخلت
ایرانی سفیر کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے رہنماؤں، خصوصاً صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے 7 جنوری کے بیانات ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف تھے، جنہوں نے کشیدگی کو مزید بڑھایا۔ انہوں نے ان واقعات کو ایران کی حالیہ تاریخ کے بدترین حالات قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ، تاریخی حقائق اور بھارت کا مکروہ کردار
دہشتگردی کے واقعات
رضا امیری مقدم نے الزام عائد کیا کہ ان حالات کے دوران مسلح گروہوں نے ہلاکتیں کیں، مساجد اور امام بارگاہوں پر حملے کیے اور آگ لگانے کے واقعات میں ملوث رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور فی الحال ایران میں کوئی احتجاج نہیں ہو رہا، اگرچہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دھمکیاں بدستور موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کرنٹ لگنے سے اموات ، گیپکو پر 2کروڑ30روپے جرمانہ عائد ، متاثرہ خاندانوں کو 40لاکھ فی کس اور ایک فرد کو ملازمت دینے کا حکم
جوابی اقدام کی تیاری
انہوں نے واضح کیا کہ اگر اسرائیل یا امریکا کی جانب سے کسی قسم کی جارحیت کی گئی تو ایران پہلے ہی یہ پیغام دے چکا ہے کہ وہ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ایران ہائی الرٹ پر ہے، فضائی حدود عارضی طور پر بند کی جا چکی ہیں، اور کسی بھی حملے کی صورت میں ایران خطے میں امریکی اور اسرائیلی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات، 40 منٹ تک جاری رہنے والی ملاقات میں اہم امور پر گفتگو
امن کے خواہاں
ایرانی سفیر نے کہا کہ تہران امن کا خواہاں ہے اور مسلم ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات اس وقت ایک مثبت مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران کی بھرپور اخلاقی اور سیاسی حمایت کی ہے، جو اس وقت مادی مدد سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
اقتصادی پابندیاں اور اندرونی صلاحیتیں
رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 44 برس سے اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، جس سے نقصان تو ہوا، لیکن اس کے نتیجے میں بعض اندرونی صلاحیتیں اور مضبوطیاں بھی پیدا ہوئیں۔ انہوں نے نیشنل رحمتہ للعالمین اتھارٹی کے ساتھ فارسی زبان کی کلاسز شروع کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔








