9 مئی کو اگر واقعی دہشت گردی ہوئی تھی تو پھر شفاف تحقیقات اور جوڈیشل کمیشن سے انکار کیوں؟ محمود خان اچکزئی
محمود خان اچکزئی کا بیان
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ریاست کا مؤقف ہے کہ 9 مئی کو دہشت گردی ہوئی۔ مگر اب سوشل میڈیا پر فارنزک رپورٹ گردش کر رہی ہے جس میں وزیراعلیٰ کے پی کے، تیمور علی جھگڑا اور بنگش صاحب کی تصاویر سامنے آئی ہیں، دعویٰ ہے کہ ریڈیو پاکستان کے واقعے کے وقت وہ موقع پر موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اصلاحات کا مقصد عام آدمی کی زندگی میں آسانی لانا ہے، اب کوئی ڈیجیٹل نظام میں چھپ نہیں سکتا: مصدق ملک کا ریفارمز رپورٹ 2026 کی لانچنگ تقریب سے خطاب
تحقیقات کے مطالبات
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو اگر واقعی دہشت گردی ہوئی تھی تو پھر شفاف تحقیقات اور جوڈیشل کمیشن سے انکار کیوں؟ جیل میں موجود عمران خان خود کہہ رہا ہے تحقیقات کرو، جو قصوروار ہو اسے سزا دو۔ دہشت گردی ہر صورت قابلِ مذمت ہے، چاہے فرد کرے یا ریاست۔ اگر سچ ہے تو کمیشن سے خوف کیوں؟
ریاست اور عوام کا معاہدہ
محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ جو رشتے اس ملک کو جوڑے ہوئے ہیں، جب وہی کاٹے جائیں گے تو ریاست کیسے چلے گی؟ آئین دراصل ریاست اور عوام کے درمیان ایک سماجی معاہدہ ہے۔ نواز شریف اور ان کا پورا خاندان الیکشن ہار چکا ہے، مگر پھر بھی اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں۔ کیا انہیں اپنے بچوں کے سامنے بھی شرم نہیں آتی کہ اصل میں جیت کسی اور کی تھی؟
ریاست کا مؤقف ہے کہ 9 مئی کو دہشت گردی ہوئی۔ مگر اب سوشل میڈیا پر فارنزک رپورٹ گردش کر رہی ہے جس میں وزیراعلیٰ کے پی کے تیمور علی جھگڑا اور بنگش صاحب کی تصاویر سامنے آئی ہیں، دعویٰ ہے کہ ریڈیو پاکستان کے واقعے کے وقت وہ موقع پر موجود تھے۔
9 مئی کو اگر واقعی دہشت گردی ہوئی تھی تو… pic.twitter.com/sEhxm3YSp5— Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan (@TTAP_OFFICIAL) January 15, 2026








