یورپی ممالک کے فوجی دستے گرین لینڈ پہنچنا شروع
یورپی ممالک کے فوجی دستوں کی گرین لینڈ آمد
نوک (ڈیلی پاکستان آن لائن) یورپی ممالک کے فوجی دستے گرین لینڈ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ڈنمارک، گرین لینڈ اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات گرین لینڈ کے مستقبل پر کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے اور فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ فرانس، جرمنی، ناروے اور سویڈن کی جانب سے اس آرکٹک جزیرے کی سکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے محدود تعداد میں فوجی بھیجے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انٹرنیٹ کیبل میں فالٹ تاحال مکمل طور پر دور نہیں کیا جاسکا: سیکرٹری آئی ٹی کا اعتراف
فوجی دستوں کی تعداد اور مشن کی نوعیت
الجزیرہ کے مطابق فرانس نے 15 فوجی روانہ کیے ہیں جبکہ جرمنی کی جانب سے 13 رکنی ٹیم گرین لینڈ پہنچی ہے۔ ناروے اور سویڈن بھی اس مشن میں شامل ہیں۔ اس کارروائی کو بظاہر ایک “علاقے کی شناخت” پر مبنی مشق قرار دیا جا رہا ہے، جس کے دوران یورپی یونین کا پرچم لہرانا بھی شامل ہے، تاکہ علامتی طور پر یہ پیغام دیا جا سکے کہ گرین لینڈ یورپ کے دائرۂ اثر میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس بار انتخابات: محمد آصف رانا صدر، اسد حنیف سیکرٹری منتخب
فرانس کی شمولیت اور مقصد
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے مطابق ابتدائی فرانسیسی فوجی دستے پہلے ہی گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک (Nuuk) پہنچ چکے ہیں اور مزید دستے بھی روانہ کیے جائیں گے۔ فرانس کا کہنا ہے کہ یہ دو روزہ مشن اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ یورپی افواج ضرورت پڑنے پر فوری طور پر تعینات ہو سکتی ہیں۔ جرمنی کی وزارتِ دفاع نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایک ریکی ٹیم گرین لینڈ بھیج دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی صارفین کے لیے مزید آسانی پیدا کرنے کا فیصلہ
ڈنمارک کا فوجی موجودگی میں اضافہ
ادھر ڈنمارک نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کرے گا۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب ڈنمارک اور گرین لینڈ کے وزرائے خارجہ نے واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقات کی، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو اپنے کنٹرول میں لینے کی خواہش پر بات چیت ہوئی۔ اس ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس بھی شامل تھے، مگر اس کے باوجود یورپی فریق امریکی موقف تبدیل کروانے میں ناکام رہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ نے پرانے کرنسی نوٹ تبدیل کرنے کی منظوری دیدی
امریکی توقعات اور ان کے اثرات
ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارش لوکے راسموسن نے کھل کر کہا کہ امریکا کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکی اور یہ بات واضح ہے کہ صدر ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ گرین لینڈ کی وزیر خارجہ ویویان موٹزفیلڈ نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تعاون ممکن ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ گرین لینڈ امریکا کی ملکیت بن جائے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس مسئلے پر بات چیت جاری رکھنے کے لیے ایک ورکنگ گروپ بنانے کا اعلان بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: آہیں کراچی ایئرپورٹ کے قریب دھماکے کی آواز سنی گئی
ٹرمپ کا موقف
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو گرین لینڈ “واقعی چاہیے”، کیونکہ اگر امریکا وہاں نہ گیا تو روس اور چین جائیں گے، اور ان کے بقول ڈنمارک اس حوالے سے کچھ نہیں کر سکتا، جبکہ امریکا سب کچھ کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ملاقات کی تفصیلات سے انہیں اس وقت تک آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: احتجاج کے باعث کاٹھور سپرہائی وے ٹریفک کیلئے بند، ملک بھر کو سامان کی ترسیل رک گئی
روس کا ردعمل
روس نے اس صورتحال پر سخت ردعمل دیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ گرین لینڈ کے معاملے پر روس اور چین کو خطرہ بنا کر پیش کرنا موجودہ کشیدگی کا بہانہ ہے۔ ان کے مطابق پہلے فرضی جارحین گھڑے جاتے ہیں اور پھر انہی سے “تحفظ” کے نام پر مداخلت کو جواز دیا جاتا ہے۔ روس نے چین کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کے حوالے سے روس اور چین کی سرگرمیوں کو جواز بنا کر صورتحال کو بگاڑنا ناقابل قبول ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کیلیے نامزد کر دیا
مقامی انوئٹ باشندوں کی تشویش
دوسری جانب گرین لینڈ کے مقامی انوئٹ باشندوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، خاص طور پر مغربی علاقے الولیسیٹ (Ilulissat) کے گردونواح میں، جہاں امریکا کی جانب سے معدنی وسائل نکالنے کے منصوبے خوف پیدا کر رہے ہیں۔ الولیسیٹ آئس فیورڈ کے وزیٹر سینٹر کے سربراہ کارل سینڈگرین کا کہنا ہے کہ انہیں امید تھی کہ امریکی حکام انسانیت کا مظاہرہ کریں گے، کیونکہ یہ معاملہ محض وسائل کا نہیں بلکہ مقامی لوگوں کے مستقبل کا ہے۔
انوئٹ کی ثقافت اور مستقبل
ان کے مطابق انوئٹ ایک الگ شناخت اور تہذیب رکھتے ہیں اور ہزاروں سال سے یہاں آباد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ زمین ان کے بچوں کا مستقبل ہے، نہ کہ ان لوگوں کا جو صرف وسائل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔








