امریکا نے ایران پر نئی پابندیاں لگا دیں
امریکا کی جانب سے ایرانی حکام پر پابندیاں
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا نے ایران میں مظاہرین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن پر پانچ اعلیٰ ایرانی حکام پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ پابندیاں جمعرات کو اس وقت لگائی گئیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے تہران پر دباؤ مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی قیادت کی جانب سے بیرونِ ملک بینکوں میں منتقل کیے جانے والے مشکوک فنڈز پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نہیں چاہتا کہ لوگ میرے مرنے کے بعد کہیں کہ وہ دولت مند مرا” بل گیٹس کا 2045 تک 200 ارب ڈالر عطیہ کرنے کا اعلان
پابندیوں کی تفصیلات
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں سپریم کونسل برائے قومی سلامتی کے سیکریٹری، پاسدارانِ انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ کمانڈر شامل ہیں، جن پر ملک بھر میں جاری احتجاج کو طاقت کے زور پر کچلنے کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کا الزام ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ حکام مظاہرین کے خلاف کارروائی کے مرکزی کردار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کندھ کوٹ: انڈس ہائی وے کے قریب گولہ پھٹنے سے 4 بچے جاں بحق
امریکہ کی نگرانی
روئٹرز کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا کہ امریکا ایرانی قیادت کی مالی سرگرمیوں کو ٹریک کر رہا ہے، خاص طور پر وہ رقوم جو ایرانی عوام سے لوٹ کر دنیا بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں منتقل کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ تشدد بند کرے اور اپنے ہی عوام کے ساتھ کھڑی ہو۔
یہ بھی پڑھیں: میری آنکھوں میں زندگی ہے ابھی۔۔۔
دیگر پابندیاں
امریکی محکمہ خزانہ نے اس کے ساتھ ساتھ 18 مزید افراد پر بھی پابندیاں لگائی ہیں، جن پر ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم کو غیر ملکی منڈیوں میں منی لانڈرنگ کے ذریعے منتقل کرنے کا الزام ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ سرگرمیاں پابندیوں کی زد میں آنے والے ایرانی مالیاتی اداروں کے خفیہ یا شیڈو بینکنگ نیٹ ورکس کے ذریعے انجام دی جا رہی تھیں۔
ٹرمپ کی دباؤ کی پالیسی
یہ اقدام صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ شروع کی گئی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر تک لانا اور تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ وہ انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث افراد اور نیٹ ورکس کے خلاف ہر ممکن مالی اور قانونی ہتھیار استعمال کرتا رہے گا۔








