سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے تھا، ہیجانی کیفیت طاری تھی، تیز تیز قدم اٹھاتے گھر کی دہلیز پار کرتے ہی بول اٹھے ”جلدی کرو جلدی کرو، گھر سے باہر نکلو“
تحریر کی تفصیل
مصنف: ع غ جانباز
قسط: 29
یہ بھی پڑھیں: جوا ایپ کی تشہیر کا معاملہ، معروف یوٹیوبر مدثر حسن لاہور سے گرفتار
پہلا منظر
ایک انجانے خوف میں جکڑے لیکن بظاہر اِس پُر سکون گاؤں میں 20 ستمبر 1947ء کی شام کے 4 بچ چکے تھے۔ میرے والد صاحب چودھری ہاشم علی تیز تیز قدم اُٹھاتے گھر کی دہلیز پار کرتے ہی بول اُٹھے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں انسداد اسمگلنگ کی بڑی کارروائی، گاڑی سے 13 کروڑ 66 لاکھ روپے مالیت کی کرسٹل آئس برآمد
خطرے کا احساس
”جلدی کرو جلدی کرو…… گھر سے باہر نکلو“…… ”معاملہ کیا ہے“ والدہ صاحبہ عمر بی بی نے استفسار کیا؟ ”یہ سوال و جواب کا وقت نہیں ہے۔“ چوہدری صاحب کا سانس اُوپر کا اُوپر اور نیچے کا نیچے تھا۔ اُن پر ایک ہیجانی کیفیت طاری تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر کا اعلان، کتنے پاکستانی کھلاڑی شامل؟
خاندان کی تیاری
والدہ صاحبہ عمر بی بی بھی گُنگ سی ہوگئیں لیکن اُس کے اَوسان ابھی بحال تھے۔ جلدی جلدی ساتھ پڑے خالی لوہے کے چھوٹے سے ٹرنک میں بچّوں کے چند کپڑے ٹھونسے اور دروازے کی طرف دوڑنے ہی والی تھی کہ ”میں“ نے دیوار میں ”آلے“ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ”زیور تو لے لو“۔
یہ بھی پڑھیں: چینی کی قیمت کا معاملہ، ن لیگ نظام حکومت چلانا بھول گئی؟ اسد علی طور کا خرم دستگیر کو ایکس پر جواب
خطرناک حالات
یاد رہے کہ حالات جب خراب سے خراب تر ہو رہے تھے تو ہر چڑھتی صبح…… چمکتی دوپہر…… اور ڈھلتی شام…… ہر کسی کو جان کے لالے پڑے تھے۔ کسی کو کوئی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے…… ہر روز دائیں بائیں سے کُشت و خون، ہنگاموں، ظلم و بر برّیت کی خبریں …… بڑے تسلسل سے آرہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپین میں سوشل میڈیا کے ذریعے انتہائی خطرناک جانور بیچنے والا جوڑا گرفتار
خاندان کی حفاظت
چوہدری اور بیگم نے یہی مناسب جانا کہ جو تھوڑا بہت زیور ہے اُس کی نشاندہی سب بچّوں کو بھی کر دی جائے۔ نا جانے کون اس خُونی سیلاب کی زد میں آکر ایک بے گورو کفن لاش کا منظر پیش کرے یا قدرت کی کرشمہ سازی سے بچ نکلے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم صاحب آپ حکم کیجیے، ہم آپ کو حکم واپس لینے کا وقت بھی نہیں دیں گے‘ظفر حجازی نے ڈاکٹرعبدالقدیر خان اور محمد خان جونیجو کا مکالمہ شیئرکردیا
فرار کی کوشش
والد صاحب جو باہر کی طرف بھاگنے ہی والے تھے فوراً مُڑے اور باورچی خانہ میں پڑی چُھری سے اُس ”آلے“ کے منہ سے مِٹّی کو اِدھر اُدھر گرا کر ایک رنگدار کپڑے کی تھیلی میں بند زیور نکال کر والدہ کو تھماتے ہوئے باہر کو بھاگ کھڑے ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ڈاکٹرز نے کامیاب آپریشن کرکے نوجوان کے سینے میں پیوست لکڑی کا ڈنڈا نکال کر جان بچالی
خاندان کی دوڑ
والدہ صاحبہ، میں، بھائی عبد الرشید اور دونوں ہمشیرہ اُن کے پیچھے پیچھے بھاگ کھڑے ہوئے۔ چودھری صاحب گلی کے مشرق کی طرف واقع کُشادہ سڑک کی طرف جانے کی بجائے گاؤں کے مغرب سے آنے والی ایک تنگ سی گلی کی طرف لپکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب چاند گرہن کا آغاز کس وقت ہوگا؟
دھشت کی لمحے
یہ گلی ہمسایہ ”عیدو“ کے مکان پر آکر اختتام پذیر ہوجاتی تھی کیونکہ عیدو کے گھر اور گلی کے درمیان ایک دیوار حائل تھی۔ چودھری ہاشم علی جو خود 45 کے پیٹے میں تھے دیوار کو پلک جھپکنے میں پھلانگ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے 4300 بھکاریوں کے نام ای سی ایل میں ڈال دیے
خاندان کا بچاؤ
دونوں بھائی بھی تھوڑی سی کوشش سے کودنے میں کامیاب ہوئے۔ امّی نے دونوں بہنوں کو اُٹھا کر اُس پار ابّو کو پکڑایا اور خود بھی جُوں تُوں کر کے گلی کے اُس پار چھلانگ لگا گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں مزید اضافہ
عیدو کا مشاہدہ
ہمسایہ ”عیدو“ اس سارے ”فلمی سین“ جیسے واقعہ کو اپنے گھر کی کھڑکی سے دیکھ رہا تھا، سمجھ گیا کہ جس قیامت کی گھڑی کے آنے کی منحوس خبر اتنے دنوں سے اِس گاؤں پر مُنڈلا رہی تھی اب آن پہنچی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کا سٹیل ملز کے ہسپتال، سکول اورکالج کا انتظام سنبھالنے کا اعلان
پناہ گزینی
ورنہ ”چودھری ہاشم علی“ اور دیواریں پھلانگتا پھرے ممکن نہیں؟ عیدو نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ …… سب اہل خانہ کو دیوار کے اُس پار کر کے مغرب کی طرف دوڑ لگا دی۔اس طرح سارا گاؤں نکل کھڑا ہوا۔
جاری ہے
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








