یمن میں سیاسی ہلچل، وزیر اعظم سالم صالح بن بریک مستعفی
یمن کے وزیر اعظم کا استعفا
صنعا (ڈیلی پاکستان آن لائن) یمن کے وزیر اعظم سالم صالح بن بریک نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا ہے، جسے یمن کی صدارتی قیادت کی کونسل نے قبول کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرین کی جنگ جلد ختم ہونے والی نہیں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا بیان
نئے وزیر اعظم کی تقرری
عرب میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ ڈاکٹر شائع محسن الزندانی کو ملک کا نیا وزیر اعظم مقرر کر دیا گیا ہے، جبکہ وہ بدستور وزیر خارجہ کی ذمہ داریاں بھی انجام دیتے رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اکیلا پن صرف درد یا مشکل نہیں زندگی کی حقیقت، فکری تجربہ اور اخلاقی تعلیم بھی ہے
سیاسی اور سکیورٹی کی صورتحال
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مالدیپ کے صدر کی 15 گھنٹے طویل پریس کانفرنس، نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا، پہلے یہ ریکارڈ کس کے پاس تھا؟
جنوبی عبوری کونسل کی سرگرمیاں
گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند تنظیم جنوبی عبوری کونسل نے ان علاقوں میں اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا تھا اور سعودی عرب کی سرحد کے قریب تک پیش قدمی کی تھی۔
سعودی عرب کی تشویش
سعودی عرب نے اس پیش رفت کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی یمن کے سیاسی مستقبل پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے。








