یمن میں سیاسی ہلچل، وزیر اعظم سالم صالح بن بریک مستعفی
یمن کے وزیر اعظم کا استعفا
صنعا (ڈیلی پاکستان آن لائن) یمن کے وزیر اعظم سالم صالح بن بریک نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا ہے، جسے یمن کی صدارتی قیادت کی کونسل نے قبول کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صورتِ حال انتہائی خطرناک، بھارت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے: ممتاز زہرہ بلوچ
نئے وزیر اعظم کی تقرری
عرب میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ ڈاکٹر شائع محسن الزندانی کو ملک کا نیا وزیر اعظم مقرر کر دیا گیا ہے، جبکہ وہ بدستور وزیر خارجہ کی ذمہ داریاں بھی انجام دیتے رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بابر اعظم نے ویرات کوہلی کا ایک اور ریکارڈ توڑ دیا
سیاسی اور سکیورٹی کی صورتحال
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آن لائن جوا کی پروموشن کا مقدمہ؛ ڈکی بھائی، انکی اہلیہ سمیت دیگر پر فرد جرم عائد
جنوبی عبوری کونسل کی سرگرمیاں
گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند تنظیم جنوبی عبوری کونسل نے ان علاقوں میں اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا تھا اور سعودی عرب کی سرحد کے قریب تک پیش قدمی کی تھی۔
سعودی عرب کی تشویش
سعودی عرب نے اس پیش رفت کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی یمن کے سیاسی مستقبل پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے。








