اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس: امریکا اور برطانیہ کا ایران کو سخت پیغام
ایرانی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں امریکی مندوب مائیک والٹز نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جاری قتل و غارت کو روکنے کیلئے تمام آپشنز زیرِ غور ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی مندوب نے کہا کہ امریکا ایران کے بہادر عوام کے ساتھ کھڑا ہے، ایران میں تشدد اور جبر سے عالمی امن پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، ایران نے حزب اللہ اور حماس جیسی تنظیموں کی فنڈنگ کی، ایران نے مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی، صدر ٹرمپ عمل پر یقین رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیمی فائنل میں آسٹریلیا کو شکست،پاکستان ہانگ کانگ سپر سکسز کے فائنل میں پہنچ گیا
امریکی مندوب کا موقف
امریکی مندوب کا کہنا تھا کہ ایران میں سر نہ ڈھانپنے پر خاتون کو قتل کر دیا گیا تھا، ہم ایرانی عوام کی حمایت جاری رکھیں گے، ایرانی حکومت کمزور ہو گئی ہے، ایران بات چیت کا کہتا ہے مگر عمل کچھ اور کرتا ہے، ایران کا طرز عمل مذاکرات کے برعکس ہے، صدر ٹرمپ نے ایران کیخلاف تمام آپشن کھلے رکھے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: بریف کیس سے ملی لاش کا معمہ حل، ملوث خاتون اور اس کا عاشق گرفتار
ایران فوری طور پر اپنی پالیسی بدلے، برطانوی مندوب
برطانوی مندوب نے بھی قدرے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں ہزاروں افراد ہلاک اور متعدد گرفتار ہونے کی رپورٹس تشویشناک ہیں، حکومت نے انٹرنیٹ بند کیا، لیکن ویڈیوز خوفناک حقیقت ظاہر کر رہی ہیں، مظاہروں کو غیر ملکی حمایت یافتہ کہنا جھوٹ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام، خواتین بہادری سے اور وقار کے ساتھ آزادی کے حق میں آواز بلند کر رہی ہیں، ایران عوام کے بنیادی حقوق اور احتجاج کے حق کا احترام کرے، ایرانی حکام کو عوام کا تحفظ کرنا چاہیے نہ کہ ظلم و جبر ڈھانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: ملیر جیل سے قیدیوں کے فرار ہونے کے کیس میں نیا موڑ سامنے آگیا
بیرونی مداخلت عالمی امن کیلئے خطرہ، روسی مندوب
روسی مندوب نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران کیخلاف امریکا کے طاقت کے استعمال اور دھمکیوں کی مذمت کرتے ہیں، روس ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کی ہر کوشش کی مذمت کرتا ہے، ایران میں بیرونی مداخلت عالمی امن کیلئے خطرہ ہے۔
روسی مندوب کا مزید کہنا تھا کہ کشیدگی کم کرنے کیلئے تمام فریق بات چیت سے حل نکالیں، اقتصادی پابندیاں اور دھمکیوں کی پالیسی غیر منصفانہ اور نقصان دہ ہے، عالمی قوانین اور خودمختاری کا احترام ضروری ہے، تشدد اور فوجی دباؤ کی بجائے سفارت کاری اور مکالمہ ہی حل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سائنسدانوں نے 10 ہزار سال پہلے معدوم ہوجانے والے 3 بھیڑیے پیدا کرلیے
طاقت کے استعمال سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا، چینی مندوب
چینی مندوب نے کہا کہ ایران اور دیگر فریقین کو غیر ضروری اقدامات سے گریز کرنا چاہیے، تمام مسائل کو بین الاقوامی قانون اور اصولوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے، چین خطے میں مسائل کے پرامن حل کیلئے ہر ممکن سفارتی مدد فراہم کرے گا، فریقین کشیدگی کم کرنے اور اعتماد کی بحالی کیلئے بات چیت کریں۔
چینی مندوب نے مزید کہا کہ انسانی جانوں اور بنیادی حقوق کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے، عالمی برادری کو مل کر بحران کے سیاسی اور سفارتی حل کی کوششیں تیز کرنی چاہئیں، چین فریقین سے صبر و تحمل کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی اپیل کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی آئندہ رمضان کے لیے سود مند پیکیج اور سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت
خطے میں طاقت کے استعمال سے گریز، یونانی مندوب
یونانی مندوب نے کہا کہ خطے میں کشیدگی انسانی جانوں کیلئے خطرہ ہے، تمام فریق صبر و تحمل سے کام لیں اور بات چیت کو ترجیح دیں، انسانی حقوق کے تحفظ کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سفارتی حل اور بین الاقوامی تعاون ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے، عالمی برادری کو یکجا ہو کر کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
غیر ضروری فوجی دباؤ اور دھمکیوں سے حالات مزید خراب ہوتے ہیں، ڈینش مندوب
ڈنمارک کے مندوب نے کہا کہ ایران میں جاری کشیدگی خطے کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہے، تمام فریق صبر و تحمل سے کام لیں، انسانی حقوق اور شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
ڈنمارک مندوب کا کہنا تھا کہ اختلافات کو بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے، غیر ضروری فوجی دباؤ اور دھمکیوں سے حالات مزید خراب ہوتے ہیں، عالمی برادری خطے میں استحکام کیلئے متحد کردار ادا کرے۔








