ٹرمپ نے ایران سے متعلق تمام آپشن بدستور کُھلے رکھے ہیں، کیرولائن لیویٹ
صدر ٹرمپ کے ایران سے متعلق موقف
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیویٹ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران سے متعلق تمام آپشنز بدستور کُھلے رکھے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا اور آزادکشمیر کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے
ایران کی صورتحال پر صدر ٹرمپ کا جائزہ
کیرولائن لیویٹ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے مظاہرین کی ہلاکتیں جاری رہنے پر ایران کو سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں 800 افراد کی سزائے موت روکی گئی ہے اور اقتصادی دباؤ بڑھانے کا عمل بھی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ججز نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کی کوشش کی جو صحیح فورم نہیں، وزیر مملکت برائے قانون
امریکا کی نئی پابندیاں
دوسری جانب، امریکا نے ایران کی بارہ کمپنیوں اور گیارہ ایرانی نژاد افراد پر نئی پابندیاں بھی لگادی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے محمد یونس اور فوج کے درمیان اختلافات کی خبروں کی تردید کردی
حملے کا فیصلہ اور سفارتی کوششیں
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کیا، یہ تبدیلی خلیجی ملکوں کی سفارتی کوششوں کے باعث عمل میں آئی۔
برطانوی روزنامے دی ٹیلی گراف کے مطابق سعودی عرب، قطر اور عمان نے واشنگٹن سے ہنگامی مذاکرات کیے اور ٹرمپ کو فوجی کارروائی موخر کرنے پر اس لیے آمادہ کیا کہ تہران کو اپنے "اچھے عمل" کا مظاہرہ کرنے کا موقع دینا چاہیے۔
قیادت کی تبدیلی کا مرحلہ
اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ فی الحال ایران میں قیادت کی تبدیلی کا مرحلہ نہیں آیا۔








