ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور شوہر ہادی علی چٹھہ نے وارنٹ گرفتاری اور دیگر عدالتی احکامات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا
اسلام آباد میں ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی قانونی جنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے متنازع ٹویٹس کیس میں وارنٹ گرفتاری اور دیگر عدالتی احکامات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے احکامات کالعدم قرار دینے کی استدعا کردی۔
یہ بھی پڑھیں: تاریخ کی سب سے بڑی اسلحہ ڈیل، لیکن امریکہ نے اسرائیل کی ٹانگ اوپر رکھنے کیلئے اہم ترین ہتھیار سعودی عرب کو پھر بھی نہ دیا
ٹرائل کورٹ کا حکم
واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے حکم دیا ہے کہ پولیس سے ایس پی اور این سی سی آئی اے سے ڈپٹی ڈائریکٹر سے کم رینک کا افسر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کرکے کل عدالت میں پیش کرے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے طلاق یافتہ بیٹی کو والد کی پینشن شادی کی حیثیت سے نہیں بلکہ حق کی بنیاد پر دینے کا فیصلہ جاری کردیا
درخواست کی تفصیلات
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وارنٹ گرفتاری معطل کرکے پولیس کو گرفتاری سے روکا جائے جب کہ 15 جنوری کا حق دفاع ختم کرنے کا حکم بھی کالعدم قرار دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ میں شریک حیات کے انتقال کے بعد فیملی پنشن کی مدت 10 سال تک محدود کردی گئی
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا فیصلہ
یاد رہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ عدالت نے حق دفاع ختم کرکے اسٹیٹ کونسل سے 342 کا بیان طلب کیا تھا، جس پر اسٹیٹ کونسل نے آج ٹرائل کورٹ میں 342 کا بیان عدالت کے سامنے جمع کرا بھی دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزارت اقتصادی امور کا ایکس اکاؤنٹ ریکور کرلیاگیا، ترجمان
گرفتاری کا حکم اور دوران سماعت کی تفصیلات
دوسری جانب ایک بار پھر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم سنادیا۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون کا نیا سپیل پاکستان میں داخل، بیشتر علاقوں میں موسلادھار بارش کا امکان
پولیس کی عدم موجودگی
عدالت سے جاری تحریری حکمنامے کے مطابق ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری عدالت پیش نہیں ہوئے، تفتیشی افسر کے مطابق ملزمان کی وارنٹ کی تعمیل نہیں کی گئی کیونکہ ملزمان اپنی رہائش گاہ پر موجود نہیں تھے۔ تفتیشی افسر کے مطابق ملزمان جان بوجھ کر گرفتاری سے بچنے کے لیے راہ فرار اختیار کررہے ہیں۔
نئے وارنٹ کی جاری کرنے کی ضرورت
عدالت نے کہا ہے کہ پولیس کو وارنٹ کی تعمیل کے لیے وقت دیا جاتا ہے اور ملزمان کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاتے ہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ پولیس سے ایس پی اور این سی سی آئی اے سے ڈپٹی ڈائریکٹر سے کم رینک کا افسر وارنٹ کی تعمیل کے لیے تعینات نہ کیا جائے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کرکے کل عدالت میں ویڈیولنک کے ذریعے پیش کیا جائے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔








