ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے، مشاورت کی بات کریں تو الزام لگایا جاتا ہے کہ اسمگلروں سے تعلق ہے، سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا بیان
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کے بعد اب کیا ضمانت ہے کہ امن قائم ہو سکے گا، ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے۔ مشاورت کی بات کریں تو الزام لگایا جاتا ہے کہ اسمگلروں سے تعلق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت قرار دینے کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست دائر
تیراہ متاثرین کے ساتھ ملاقات
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تیراہ متاثرین سے ملاقات کے لیے وادی تیراہ کا دورہ کیا اور اس موقع پر انہوں نے کہا کہ تیراہ کے عوام کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ ناقابل قبول ہے، بار بار ناکامی کے باوجود بند کمروں کے فیصلوں سے باز نہیں آیا جا رہا۔ ان پالیسیوں کی مخالفت کی وجہ سے مجھے اور میری قوم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، انہیں معلوم ہے کہ میرے سینے میں اپنے عوام کے لیے درد ہے، اسی لیے میری سرزمین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چائے بنانے کے لیے چولہا جلایا تو آگ سارے ڈبے میں بھڑک اٹھی، ڈرائیور نے گاڑی روکی مگر تب تک بہت نقصان ہو چکا تھا، جلتے ہوئے ڈبوں کو علیٰحدہ کیا گیا۔
آپریشن کے خلاف وزیراعلیٰ کا مؤقف
میری حکومت نے پہلے دن سے امن کے لیے آواز بلند کی، ہم کل بھی آپریشن کے خلاف تھے، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی اس ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے ایران کے مشیر قومی سلامتی علی لاریجانی کی ملاقات
متاثرین کے ساتھ یکجہتی
متاثرین کو انہوں نے بتایا کہ میں آپ میں سے ہوں اور مرتے دم تک پہاڑ کی طرح آپ کے ساتھ کھڑا رہوں گا، زور زبردستی اور بدمعاشی کے ذریعے آپریشن شروع کیا گیا، آپریشن کا اعلان کر کے عوام کو دکھ اور تکلیف میں جھونک کر بے سہارا چھوڑ دیا گیا۔ متاثرہ عوام کا تحفظ اور عزت اب میری براہ راست ذمہ داری ہے، تیرہ متاثرین کے مسائل میں کسی بھی قسم کی غفلت ناقابل برداشت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: تاریخی جیت: سکاٹ لینڈ کے خلاف بنگلہ دیشی خواتین کرکٹرز کی جذباتی تصاویر وائرل
فوری اقدامات اور احکامات
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا تیراہ متاثرین کی مشکلات فوری کم کرنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو ہنگامی اقدامات کا حکم دیا اور کہا کہ جگہ جگہ لوگوں کو روکنے اور قطاروں میں تذلیل کروانے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
رجسٹریشن کے عمل کی تیز ترائی
انہوں نے رجسٹریشن کا عمل تیز کرنے کے لیے نادرا کے مزید دفاتر ہنگامی بنیادوں پر قائم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام سے وعدہ ہے کہ ہم بندوق کو قلم سے بدلیں گے، مستقل اور پائیدار امن کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے متفقہ پالیسی ہی واحد حل ہے۔








