میں پیار سے اسے خرگوش کہتا تھا، دھول بڑھتی ہی جا رہی تھی، فون بج اٹھا،’’اگلی بار آئے تو مجھے بھی ملوانا پیار محبت کی بات اپنے انداز میں کرونگا“

مصنف: شہزاد احمد حمید

قسط: 411

دھول پور کا وارن

احمد پور ایسٹ کے ایک دور دراز گاؤں ”دھول“ کا رہنے والے جہاں زیب واران ایم پی اے تھے۔ دوسرے ایم پی ایز کی طرح وہ بھی ترقیاتی فنڈز سے اپنا ”حصہ“ وصول کرتے تھے لیکن دوسرے ایم پی ایز کی طرح یہ ٹھیکیدار سے بھی پیسوں کی ڈیمانڈ کرتا رہتا تھا۔

فنڈز کی نگرانی

ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کا ان فنڈز سے کوئی تعلق نہ تھا لیکن ان سکیمز کی نگرانی بہر حال میری ذمہ داری تھی۔ یہ ایکیسن آفس سے متعلقہ تھا جبکہ فنڈز کا اجراء ڈی سی او آفس کرتا۔ واران اکثر عامر کے دفتر آتا رہتا تھا۔ عامر مجھے بھی ان کے مطالبات کے حوالے سے گاہے بگاہے بات کرتا رہتا تھا۔

پریشانی کا سامنا

ایک روز وہ اس کے دفتر سے اٹھ کر گیا تو عامر میرے پاس آیا کچھ پریشان تھا۔ عید الفطر قریب تھی۔ میں نے اس سے پوچھا؛”کیا ہوا؟“ کہنے لگا؛”سر! یہ شخص تو بہت پریشان کر رہا ہے۔ ہر بات پیسے سے شروع کرکے پیسے پر ہی ختم کرتا ہے۔“ میں نے اسے تسلی دی؛”اگلی بار آئے تو مجھے بھی ملوانا میں اس سے کچھ پیار محبت کی بات اپنے انداز میں کروں گا۔“

کمشنر کا بلوا

ابھی یہ بات کر ہی رہا تھا کہ کمشنر کا بلوا آ گیا۔ میں گیا تو جہانزیب واران ان کے دفتر سے نکل رہا تھا۔ کمشنر نے مجھے ایک درخواست دیتے کہا؛”آپ خود جا کر معاملہ دیکھیں اور جلد ہی مجھے رپورٹ کریں۔“ میں نے درخواست پر سرسری نظر ڈالی۔ یہ جہاں زیب واران نے عامر اور ٹھیکیدار کے خلاف ایک منصوبے میں ناقص میٹریل استعمال کرنے کے حوالے سے دی تھی۔

معاملے کی پیچیدگی

میں نے کمشنر سے کہا؛”سر! کل شام تک آپ کو رپورٹ دوں گا۔“ میں چلا آیا اور عامر کو اس درخواست کے بارے آگاہ کرتے پوچھا؛”معاملہ کیا ہے؟“ کہنے لگا؛”سر! سڑک کی یہ زیر تعمیر سکیم واٹر بونڈ ہو چکی ہے۔ کام بند ہے۔ ایم پی اے اپنا حصہ وصول کر چکا ہے۔ اب عید کے لئے ٹھیکیدار سے مزید لاکھ روپیہ مانگ رہا ہے۔ اس نے پیسے دینے سے انکار کر دیا ہے اور کام بند۔ ٹھیکیدار کو بلیک میل کرنے کے لئے درخواست دے دی ہے۔“

سفر کی تفصیلات

گرمی کا موسم تھا۔ اگلے روز محمد شاہد (ایکسین آفس کا یہ سب انجینئر سمجھ دار اور اپنے کام سے واقف تھا۔ اس سے پرانی شناسائی تھی جب میں کچھ سال پہلے بہاول پور کی سیر کو آیا تھا تو یہ میرے ساتھ پروٹوکول ڈیوٹی پر تھا۔ تب میں وریز بلدیات، قانون، پبلک پراسیکیوشن پنجاب محمد بشارت راجہ کا سٹاف افسر تھا۔) شاہد اور نواز کے ہمراہ دھول پور روانہ ہوا۔

دھول پور کی صورت حال

خورشید صاحب نے پہلے ہی سیکرٹری یونین کونسل کو میرے آنے اور سائیٹ پر موجود رہنے کی اطلاع کر چکے تھے۔ جوں جوں ہم دھول پور کے قریب پہنچ رہے تھے دھول بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ 3 گھنٹے کے سفر کے بعد ہم دھول پور کی حدود میں داخل ہوئے تو میرا فون بج اٹھا۔ دوسری طرف موصوف ایم پی اے تھے۔ کہنے لگا؛”میں اپنے ڈیرے پر آپ کا منتظر ہوں۔ سیکرٹری بھی یہیں ہے۔“ میں نے جواب دیا؛”میرے فرائض میں آپ کے ڈیرے پر آنا شامل نہیں۔ آپ میرا انتظار مت کریں۔ رپورٹ شام کو کمشنر کو دے دوں گا۔ جہاں تک سیکرٹری کا تعلق ہے اسے سائیٹ پر ہونا چاہیے۔“

سائیٹ پر صورتحال

جیسے ہی فون بند کیا شاہد بولا؛”سر! سائیٹ آ گئی ہے۔ ٹھیکیدار بھی موجود تھا۔ ایک کلو میٹر لمبی سڑک واٹر بونڈ ہو چکی تھی، موقع پر کام بند تھا۔ ٹھیکیدار کہنے لگا؛”سر! ایم پی اے صاحب عیدی کے 50 ہزار روپے مانگ رہا ہے حالانکہ اپنا حصہ وہ پہلے ہی وصول کر چکا ہے۔“ تین چار جگہ پٹ (pit) لگوائی، specifications چیک کیں جو بمطابق ایسٹیمیٹ تھیں البتہ بارش نے سڑک کے ”برمز“ (کنارے) خراب کر دئیے تھے۔ ٹھیکیدار سے کہا؛”برمز ٹھیک کرکے تصاویر اگلے 2 روز میں مجھے بھجوائے۔“ شاہد سے پوچھا؛”سیکرٹری نہیں آیا کیا؟“ اس نے جواب دیا؛”نہیں سر۔“ خورشید صاحب کو فون کرکے سیکرٹری کو معطل کرنے کو کہا۔ (جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...