خاموشی سے گاؤں چھوڑنے میں پہل کرنی پڑی، کرپان دو بندوق نہ دو، وہ ٹیسٹ میں فیل ہے، جتھے دار نے وقت مقررّ کیا ہے آپ دخل نہ دیں
مصنف کا تعارف
مصنف: ع غ جانباز
یہ بھی پڑھیں: بجٹ 2025-26: پاکستانیوں کی اکثریت کیا سوال پوچھ رہی ہے؟ حامد میر نے دلچسپ نکتہ اٹھا دیا
شاعر کی تخلیقات
قسط: 30
گھر سے نکلے تھے تو اِک دشتِ فنا کی صورت
راہ میں صرف سفر، صرف سفر رکھا تھا
دِل تھے متروکہ مکانات کی صُورت خالی
اور اسباب میں بچھڑا ہوا گھر رکھا تھا
جسم اجداد کی قبروں سے نکلتے ہی نہ تھے
نسل دَر نسل اِک خاک میں زر رکھّا تھا
رُوح پر نقش تھے وہ نقش ابھی تک جن میں
رنگ بچپن کی کسی یاد نے بھر رکھّا تھا
چوڑیاں ٹوٹ کے بکھری تھیں ہر اِک آنگن میں
اِک کُنواں تھا کہ تمناؤں سے بھر رکھّا تھا
(سعود عثمانی)
یہ گلستاں جو مہکتا ہوا تم دیکھتے ہو
خون بہایا ہے تو پھر جا کے بہار آئی ہے
قائدِ خضر صفت ایسا ملا کہ خود ہی
بازو پھیلائے ہوئے منزلِ شوق آئی ہے
(اسلم سحاب ہاشمی)
یہ بھی پڑھیں: ابو محمد الجولانی: شامی فوج کو حیران کن شکست دینے والے گروہ کے پراسرار رہنما
کہانی کا آغاز
قدرے بل کھاتی کچّی سڑک کے راستے سے اگلے گاؤں "بھگوراں" کا فاصلہ صرف 2 میل کے قریب تھا۔ چودھری ہاشم علی جو گاؤں کے چند سرکردہ چودھریوں میں سے ایک تھے، اُن کے متعلق اردگرد کے گاؤں میں، جن میں اکثرّیت سکھّوں کی تھی، وہاں نہ جانے کیوں اور کیسے یہ بات پھیل چکی تھی کہ چودھری ہاشم علی کے پاس باہر سے اسلحہ پہنچا ہے اور اب وہ اردگرد کے سکھّوں، ہندوؤں پر دھاوا بولنے ہی والے ہیں۔ حالانکہ چودھری صاحب کے پاس سوائے ایک پستول کے اسلحہ نام کی اَور کوئی چیز نہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ چودھری صاحب کو اس طرح خاموشی سے گاؤں چھوڑنے میں پہل کرنی پڑی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کو سی ٹی ڈی کی خوارج کے خلاف کومیانوالی میں کامیاب کارروائی پر شاباش
حالات کی روداد
وہ اس طرح شاید نہ ہی کر پاتے اگر راجو (ہندو) کمہار جو گاؤں میں پرچُون کی ایک دُکان کا مالک تھا اور چودھری ہاشم علی کے احسانوں تلے دبا ہوا تھا اُس دن ساتھ والے سکھّوں کے گاؤں سے سالم مسور (جو کہ اس علاقے کی ایک مشہور سوغات تھی) کی خرید کے سلسلے میں گیا ہوا تھا۔ وہاں جس گھر سے اُس نے 2 بوری سالم مسور خریدے، اُسی گھر کی بیٹھک میں ایک شورو غُل بپا تھا۔ یوں تو شور میں کوئی بات سُجھائی نہ دیتی تھی۔ لیکن جب صرف ایک آدمی بات کرتا تو ملحقہ دروازے کے پاس بیٹھے راجو کمہار کو چند اشارے مل پاتے…… جو کچھ یوں تھے۔
”کل 25 بندوقیں، 100 کرپانیں اور 33 برچھے“
”امرجیت سنگھ کو کرپان دو بندوق نہ دو…… وہ کل کے ٹیسٹ میں فیل ہے“
”جتھے دار نے آج شام کا وقت مقررّ کیا ہے آپ دخل نہ دیں“
راجو کمہار اپنی گدھی پر ایک بوری مسور لاد کر واپس گاؤں کو روانہ ہوا تو پچھلے دنوں پھیلی افواہوں اور آج کے ملے چند اشاروں سے اُس کو پختہ یقین ہوچکا تھا کہ آج شام کو نشانہ بننے والا گاؤں ”بڑوہ“ ہی ہوسکتا ہے۔ لہٰذا وہ بھاگم بھاگ چودھری ہاشم علی کے پاس پہنچا اور ساری صورتِ حال بیان کردی۔
یہ بھی پڑھیں: نوازشریف آئی ٹی سٹی میں 23 بڑی آئی ٹی کمپنیاں ادارے قائم کرنے کو تیار، اراضی حاصل کرلی
چودھری کا رد عمل
چودھری ہاشم علی کی تو جیسے زبان ہی گُنگ ہوگئی۔ شکریہ کا کوئی لفظ اُن کے منہ سے نہ نکل سکا، صرف ہاتھ راجو کے کندھے پر رکھ کر ذرا دبایا۔ جو عمل شاید سینکڑوں الفاظ کا اِحاطہ کیے ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب کے پہلے کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پراجیکٹ کا افتتاح کر دیا
حویلی میں مشاورت
بھگوراں گاؤں پہنچتے ہی چودھری ہاشم علی نے اپنے ایک واقف کار کے گھر سب لوگوں کو چھوڑا اور گاؤں کے سرکردہ لوگوں سے صلاح مشورہ کے لیے احمد خان کی حویلی میں چلے گئے۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








