پاکستان کا دنیا میں کپاس کا چوتھا، کنو کے حساب سے پہلا نمبر ہے، حکومت کسانوں کو بھارتی پنجاب جیسی سہولیات دے تو اس سے بھی آگے جا سکتے ہیں
مصنف اور قسط
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 279
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعہ، نواز شریف اور ڈکی بھائی کا ایک ہی جیسا موقف سامنے آگیا۔
بلوچستان میں جمہوریت کے مسائل
٭… بلوچستان میں جمہوریت اور منتخب ارکان اور الیکشن کے مسائل اہم ہیں۔ وہاں سیاستدانوں کے پیسے بنانے کا عمل تو کامیاب ہے لیکن حقیقی جمہوریت کا عمل ناکام ہے۔ کیوں؟
یہ بھی پڑھیں: بابراعظم پر جنسی ہراسانی کا الزام، اندراج مقدمہ کے لیے رجوع کرنے والی خاتون لاہور ہائی کورٹ طلب
اجلاس میں شرکاء
اجلاس سے خطاب کرنے والوں میں میاں اللہ نواز چیف جسٹس ریٹائرڈ لاہور ہائی کورٹ، سیدہ سلونی بخاری صدر وومن ونگ تحریک انصاف پنجاب، ڈاکٹر ایم اویس فاروقی، میجر (ر) صدیق ریحان، ڈاکٹر محی الدین، قیوم نظامی، پروفیسر شفیق جالندھری، پروفیسر ڈاکٹر مجاہد منصوری اور رانا امیر احمد خاں صدر سٹیزن کونسل کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ضم شدہ اضلاع کے لئے فنڈز کس نے بند کر دیئے۔۔؟ مزمل اسلم نے شخصیت کا نام بتا دیا
شعبہ زراعت کا قومی معیشت میں کردار
سٹیزن کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام شعبہ زراعت کی قومی معیشت میں اہمیت، کردار اور اس شعبہ کی پسماندگی، کرپشن کے مسائل کے حل کے موضوع پر 31 جنوری 2014ء کو ہمدرد فاؤنڈیشن ہال میں سیمینار منعقد ہوا۔ جس میں صوبائی وزیر زراعت پنجاب ڈاکٹر فرخ جاوید نے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت زراعت کی ترقی میں حائل تمام مشکلات کو حل کرنے اور فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لیے کوشاں ہے تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے خوراک کا بہتر انتظام ہو سکے۔ اس ضمن میں ریسرچ پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ ریسرچ کے لیے اور زمینداروں کی بھلائی کے لیے مزید اقدامات کئے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مالدیپ کے صدر کی 15 گھنٹے طویل پریس کانفرنس، نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا، پہلے یہ ریکارڈ کس کے پاس تھا؟
کسانوں کی مشکلات
پاکستان میں زراعت میں پسماندگی، کرپشن اور اس کے حل کے موضوع پر کاٹن ایکسپرٹ رانا صابر علی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے چھوٹے کسان جو کہ ملک کے کسانوں کا 85 فیصد ہیں فصلوں کے مختلف عوامل مثلاً فصلوں کی بروقت کاشت، جڑی بوٹیوں کی تلفی، کھادوں کا متناسب استعمال اور پانی کا باکفایت استعمال نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے وہ بڑے کسانوں جیسی پیداوار حاصل نہیں کر سکتے۔
اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ یہ چھوٹے کسان کھادوں اور ڈیزل کی قیمتیں جوکہ انڈیا کے مقابل مہنگی ہیں صحیح طریقہ سے نہیں خرید سکتے۔ لوڈشیڈنگ اور نہری بھل صفائی نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی قلت بھی پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے ججز کی بیواؤں کو سکیورٹی دینے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا
کسانوں کی محنت اور عالمی مقام
انہوں نے مزید بتایا کہ ان تمام مشکلات کے ہوتے ہوئے ہمارے کسان خوب محنت کر رہے ہیں اور ہمارے زرعی ماہرین کا بھی اس میں دخل ہے کہ اس وقت مختلف فصلوں میں دنیا میں ہم ممتاز مقام پر کھڑے ہیں۔
پاکستان کا دنیا میں کپاس کا چوتھا، گنے کی پیداوار میں پانچواں، چینی کی پیداوار میں آٹھواں، کنو کے حساب سے پہلا، چنے کا دوسرا اور گندم کی وجہ سے ہمارا دنیا میں ساتواں نمبر ہے۔
اس سلسلہ میں انہوں نے مزید بتایا کہ اگر ہماری حکومت ہمارے کسانوں کو بھارتی پنجاب جیسی سہولیات فراہم کر دے تو ہم تمام فصلوں میں اس سے بھی آگے جا سکتے ہیں۔
کرپشن کے خلاف قوانین
سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل پاکستان میاں حمیدالدین قصوری نے اپنے خطاب میں کرپشن کے خلاف قوانین کا ایک جائزہ پیش کرتے ہوئےکہا کہ حکمرانوں نے پاکستان میں احتسابی نظام بنانے کے لیے مؤثر قانون سازی نہیں کی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ احتساب کمشن کے چیئرمین کی تعیناتی کا اختیار وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر سے واپس لے کر سپریم کورٹ کو دیا جائے تاکہ اس عہدہ پر ریٹائرڈ یا موجودہ سپریم کورٹ کے ججوں میں سے بہترین شخصیت کو اس اہم عہدہ پر تعینات کیا جائے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








