پاکستان کا اپنا اردو چیٹ جی پی ٹی لانچ، نوجوان پاکستانی نے امریکا میں رہتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا اردو اے آئی ماڈل بنا ڈالا
پاکستانی نوجوان کا بڑا کارنامہ
نیویارک (ویب ڈیسک) امریکا میں زیرِ تعلیم پاکستانی نوجوان اور سیریل انٹرپرینیور تیمور حسن نے ایک اور بڑا کارنامہ انجام دے دیا۔ انہوں نے اپنے دو ساتھیوں جواد احمد اور محمد اویس کے ساتھ مل کر پاکستان کا اپنا اردو چیٹ جی پی ٹی "قلب" تیار کر لیا ہے جو دنیا کا سب سے بڑا اردو لینگویج ماڈل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شوہر سے پیسے چھپانے والی خاتون کو بڑا دھچکا لگ گیا
ماڈل کی تربیت اور کارکردگی
"قلب" کو تقریباً ایک ارب ستانوے کروڑ الفاظ پر تربیت دی گئی ہے اور اسے سات سے زائد عالمی معیار کے ٹیسٹس پر جانچا گیا ہے، جہاں اس نے موجودہ اردو اے آئی ماڈلز کو واضح طور پر پیچھے چھوڑ دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ ماڈل اردو زبان کو نہ صرف بہتر انداز میں سمجھتا ہے بلکہ عام صارف کے لیے عملی سطح پر زیادہ مفید ثابت ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر میں خواتین مسلسل عدم تحفظ کا شکار
منصوبے کا مقصد
اس منصوبے کا مقصد دنیا بھر میں موجود 23 کروڑ سے زائد اردو بولنے والوں کو ان کی اپنی زبان میں جدید مصنوعی ذہانت کی سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ تعلیم، کاروبار، کسٹمر سروس، ڈیجیٹل ایپس اور وائس بیسڈ سسٹمز جیسے شعبوں میں انقلاب برپا کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی کے لیے بھارت کے پاکستان نہ آنے پر نجم سیٹھی کا رد عمل
تیمور حسن: ایک متاثر کن شخصیت
تیمور حسن اس سے قبل 13 اسٹارٹ اپس کامیابی سے لانچ کر کے ایگزٹ کر چکے ہیں، وہ مائیکروسافٹ کپ کے فاتح رہ چکے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے بی ایس کمپیوٹر سائنس فاسٹ یونیورسٹی سے مکمل کی جبکہ اس وقت امریکا میں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ جدید اے آئی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیشی ماڈل سفارتی تعلقات خطرے میں ڈالنے کے الزام میں گرفتار
ٹیکنالوجی کی نئی جدت
تیمور حسن کا کہنا ہے کہ اب ٹیکنالوجی صرف بڑی کمپنیوں یا اربوں ڈالر کے بجٹ تک محدود نہیں رہی، بلکہ چند نوجوان بھی مل کر ایسے منصوبے تیار کر سکتے ہیں جو لاکھوں لوگوں کی زندگی بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
قلب: ایک تاریخی سنگِ میل
ماہرین کے مطابق "قلب" کی تیاری پاکستان کے لیے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک تاریخی سنگِ میل ہے جو ملک کو عالمی ٹیکنالوجی نقشے پر نمایاں مقام دلانے میں اہم کردار ادا کرے گا.








