قومی اسمبلی میں عدلیہ، ججز کے کردار اور افواج پاکستان کے خلاف نہیں، صرف اسی گفتگو کی اجازت ہو گی جو آئین کے دائرے میں ہو، سردار ایاز صادق
اسپیکر قومی اسمبلی کا بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا قبل ازوقت جیت کا دعویٰ حقیقت سے توجہ ہٹانا ہے،کملا ہیرس
نیشنل کالج آف آرٹس کا دورہ
نیشنل کالج آف آرٹس کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ این سی اے ایک بہترین یونیورسٹی اور اس نے قومی سطح پر شہرت حاصل کر لی ہے، جس کے طلبہ بہت کچھ حاصل کر رہے ہیں۔ یہاں کے نوجوان طلبہ ریسرچ کے بعد کام کرتے ہیں جو تخلیقی ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم کے 80 فیصد نکات پر مشاورت مکمل ہوچکی، آج مکمل کرلیا جائے گا، فاروق ایچ نائیک
اسپیکر کا عمل
سردار ایاز صادق نے کہا کہ وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں بلکہ بطور اسپیکر اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج ضرور کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ اس میں آگ نہ لگائی جائے اور جانوں کا ضیاع نہ ہو۔ توڑ پھوڑ، ڈنڈوں اور بندوقوں کی موجودگی تشویش کا باعث بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، پاک بھارت کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال
احسن گفتگو کی ضرورت
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی پاکستان کے خلاف بات کرے گا تو اسے گفتگو کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قومی اسمبلی میں عدلیہ اور ججز کے کردار پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اسی طرح افواج پاکستان کے خلاف بات بھی نہیں کرنے دی جائے گی اور صرف اسی گفتگو کی اجازت ہو گی جو آئین کے دائرے میں ہو۔
پاکستان کی معیشت
سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم پاکستان سے مشاورت کرتے ہیں اور وزیر اعظم انہیں کسی چیز سے نہیں روکتے۔ انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم جو کوئی بھی پاکستان کے خلاف بات کرے گا اسے اجازت نہیں دی جائے گی۔ پاکستان کی معیشت مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر 40 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ پاکستان کے امریکا، چین، روس، ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں اور ان سے لڑنا عوام کا کام ہے۔








