قائدِ ملت لیاقت علی خان میموریل کمیٹی کے زیرِ اہتمام سندھ ہائیکورٹ بار لائبریری میں سیمینار، اہم قراردادیں منظور
مزارِ قائد کے تقدس کا تحفظ
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) مزارِ قائد کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے قائداعظم کی ذاتی استعمال کی اشیاء پر مشتمل میوزیم کو مزار کے احاطے سے منتقل کر کے قائداعظم ہاؤس میوزیم میں رکھا جائے، جس کا بنیادی مقصد ہی قائداعظم محمد علی جناح سے منسوب نوادرات کا تحفظ اور نمائش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مصباح الحق کو اہم ذمہ داری دیئے جانے کا امکان
داخلہ فیس اور فاتحہ خوانی کی اجازت
مزارِ قائد کی داخلہ فیس قومی وقار کے منافی ہے، جسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔ نیز مزارِ قائد پر حاضری دینے والے تمام افراد کو بلا تفریق بانیٔ پاکستان کی قبر پر فاتحہ خوانی کی اجازت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اتحادبین المسلمین کمیٹی کا غیر معمولی اجلاس، مفتی منیب الرحمان کی خصوصی شرکت، فتنے و فساد روکنا ریاست کا فرض ہے ورنہ یہ آگ ہر گھر تک پہنچے گی: مریم نواز
قائداعظم اکیڈمی میں عملے کی بھرتی
اسی طرح وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کے تحت قائم قائداعظم اکیڈمی میں مستقل ڈائریکٹر اور ریسرچ فیلوز کی خالی اسامیوں کو بلا تاخیر پُر کیا جائے، تاکہ اکیڈمی اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ قومی اور بین الاقوامی سطح پر قائداعظم کی زندگی اور افکار کو اجاگر کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت سندھ نے یوم عاشور کی مناسبت سے دو روز کی عام تعطیل کا اعلان کردیا
سیمینار کی اہمیت
ان امور کا مطالبہ ایک قرارداد کے ذریعے قائدِ ملت لیاقت علی خان میموریل کمیٹی کے زیرِ اہتمام سندھ ہائی کورٹ بار لائبریری میں منعقدہ سیمینار میں کیا گیا۔ یہ سیمینار بابائے قوم کے یومِ ولادت کے 150ویں سال کی مناسبت سے شروع ہونے والی تقریبات کے سلسلے کی پہلی تقریب تھا۔
یہ بھی پڑھیں: شجاع آباد میں بند ٹوٹنے سے شگاف بڑھ گیا، مزید کئی علاقے زیر آب آ گئے
مساعدت اور اہم خطابات
تقریب سے سینیٹر جاوید جبار، پاکستان بار کونسل کے رکن بیرسٹر محمد سلیم منگریو، سابق رکنِ قومی اسمبلی کشور زہرا، کمیٹی کے صدر محفوظ النبی خان، محمد حلیم غوری، محمد اسلم فاروقی، معروف قانون دان لیاقت علی میو، انور عظیم اور سید نسیم شاہ نے خطاب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف میں عالیہ حمزہ کا مستقبل اچھا نظر نہیں آ رہا: تجزیہ کار سلمان غنی
قائداعظم کے حصول پاکستان میں کردار
اس موقع پر مہمانِ خصوصی سینیٹر جاوید جبار نے کہا کہ حصولِ پاکستان کے لیے قائداعظم نے بیک وقت برطانوی استعمار، انڈین نیشنل کانگریس کے علاوہ بعض مسلمان تنظیموں اور قوم پرست رہنماؤں کو بھی سیاسی و فکری محاذ پر شکست دی۔ پاکستان دنیا کے نقشے پر وہ واحد ملک ہے جو لسانی یا ثقافتی بنیادوں کے برخلاف دین کی بنیاد پر حاصل کیا گیا۔ قائداعظم کی زندگی کے بارے میں وقتاً فوقتاً ان کی شخصیت کے نئے اور روشن پہلو سامنے آتے رہتے ہیں، لہٰذا ان کے افکار اور کارناموں پر مسلسل تحقیق کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمر ایوب نے اسلام آباد میں مظاہرین پر ہونے والے تشدد کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کردیا
قراردادوں پر عملدرآمد کی ضرورت
دریں اثناء ممتاز قانون دان بیرسٹر محمد سلیم منگریو نے سیمینار میں منظور شدہ قراردادوں پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے فوری عملدرآمد پر زور دیا اور کہا کہ ان کے لیے یہ امر باعثِ طمانیت ہے کہ بانیٔ پاکستان کی ولادت کے 150ویں سال کا جشن، شہرِ قائد میں واقع سندھ ہائی کورٹ بار لائبریری میں منایا جا رہا ہے، کیونکہ قائداعظم خود بھی ایک بلند پایہ قانون دان تھے۔
مسلمانوں کا حقِ خود ارادیت
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کے صدر محفوظ النبی خان نے کہا کہ جنوبی ایشیا ءکے مسلمانوں نے اپنے حقِ خود ارادیت کے اظہار کے ذریعے قائداعظم کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاسی اور قانونی جدوجہد کے نتیجے میں، کسی عسکری قوت کے بغیر، برصغیر میں مسلمانوں کے لیے ایک علیٰحدہ وطن پاکستان حاصل کیا۔








