قائدِ ملت لیاقت علی خان میموریل کمیٹی کے زیرِ اہتمام سندھ ہائیکورٹ بار لائبریری میں سیمینار، اہم قراردادیں منظور
مزارِ قائد کے تقدس کا تحفظ
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) مزارِ قائد کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے قائداعظم کی ذاتی استعمال کی اشیاء پر مشتمل میوزیم کو مزار کے احاطے سے منتقل کر کے قائداعظم ہاؤس میوزیم میں رکھا جائے، جس کا بنیادی مقصد ہی قائداعظم محمد علی جناح سے منسوب نوادرات کا تحفظ اور نمائش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان میں بیگم کا شوہر پر جسمانی تعلقات کے دوران جنسی تشدد کا الزام، خاتون زخمی، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا
داخلہ فیس اور فاتحہ خوانی کی اجازت
مزارِ قائد کی داخلہ فیس قومی وقار کے منافی ہے، جسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔ نیز مزارِ قائد پر حاضری دینے والے تمام افراد کو بلا تفریق بانیٔ پاکستان کی قبر پر فاتحہ خوانی کی اجازت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کا معاہدہ آج ہوگا
قائداعظم اکیڈمی میں عملے کی بھرتی
اسی طرح وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کے تحت قائم قائداعظم اکیڈمی میں مستقل ڈائریکٹر اور ریسرچ فیلوز کی خالی اسامیوں کو بلا تاخیر پُر کیا جائے، تاکہ اکیڈمی اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ قومی اور بین الاقوامی سطح پر قائداعظم کی زندگی اور افکار کو اجاگر کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ایکسپو سٹی دبئی کے ایگزیبیشن سینٹر میں پاکستان کا 78 واں یوم آزادی دھوم دھام سے منایا گیا
سیمینار کی اہمیت
ان امور کا مطالبہ ایک قرارداد کے ذریعے قائدِ ملت لیاقت علی خان میموریل کمیٹی کے زیرِ اہتمام سندھ ہائی کورٹ بار لائبریری میں منعقدہ سیمینار میں کیا گیا۔ یہ سیمینار بابائے قوم کے یومِ ولادت کے 150ویں سال کی مناسبت سے شروع ہونے والی تقریبات کے سلسلے کی پہلی تقریب تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آج رات رمضان المبارک کا چاند خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا
مساعدت اور اہم خطابات
تقریب سے سینیٹر جاوید جبار، پاکستان بار کونسل کے رکن بیرسٹر محمد سلیم منگریو، سابق رکنِ قومی اسمبلی کشور زہرا، کمیٹی کے صدر محفوظ النبی خان، محمد حلیم غوری، محمد اسلم فاروقی، معروف قانون دان لیاقت علی میو، انور عظیم اور سید نسیم شاہ نے خطاب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے وزارتوں کی کارکردگی میں بہتری کے لیے اصلاحاتی عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کردی
قائداعظم کے حصول پاکستان میں کردار
اس موقع پر مہمانِ خصوصی سینیٹر جاوید جبار نے کہا کہ حصولِ پاکستان کے لیے قائداعظم نے بیک وقت برطانوی استعمار، انڈین نیشنل کانگریس کے علاوہ بعض مسلمان تنظیموں اور قوم پرست رہنماؤں کو بھی سیاسی و فکری محاذ پر شکست دی۔ پاکستان دنیا کے نقشے پر وہ واحد ملک ہے جو لسانی یا ثقافتی بنیادوں کے برخلاف دین کی بنیاد پر حاصل کیا گیا۔ قائداعظم کی زندگی کے بارے میں وقتاً فوقتاً ان کی شخصیت کے نئے اور روشن پہلو سامنے آتے رہتے ہیں، لہٰذا ان کے افکار اور کارناموں پر مسلسل تحقیق کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا کاروبار فنانس کیلئے ضرورت کے مطابق قرضہ دینے کا حکم
قراردادوں پر عملدرآمد کی ضرورت
دریں اثناء ممتاز قانون دان بیرسٹر محمد سلیم منگریو نے سیمینار میں منظور شدہ قراردادوں پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے فوری عملدرآمد پر زور دیا اور کہا کہ ان کے لیے یہ امر باعثِ طمانیت ہے کہ بانیٔ پاکستان کی ولادت کے 150ویں سال کا جشن، شہرِ قائد میں واقع سندھ ہائی کورٹ بار لائبریری میں منایا جا رہا ہے، کیونکہ قائداعظم خود بھی ایک بلند پایہ قانون دان تھے۔
مسلمانوں کا حقِ خود ارادیت
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کے صدر محفوظ النبی خان نے کہا کہ جنوبی ایشیا ءکے مسلمانوں نے اپنے حقِ خود ارادیت کے اظہار کے ذریعے قائداعظم کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاسی اور قانونی جدوجہد کے نتیجے میں، کسی عسکری قوت کے بغیر، برصغیر میں مسلمانوں کے لیے ایک علیٰحدہ وطن پاکستان حاصل کیا۔








