بھارتی سیاستدان نے ریپ جیسے سنگین جرم کو خواتین اور مذہبی عقائد سے جوڑ دیا، سماجی تنظیموں کا احتجاج
بھارتی سیاستدان کا متنازع بیان
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی سیاستدان نے ریپ جیسے سنگین جرم کو خواتین اور مذہبی عقائد سے جوڑ دیا، سماجی تنظیموں کا بیان پر شدید احتجاج، سخت کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی میں مسٹر پتلو گرفتار لیکن دراصل کس نے پکڑوایا ؟ مزید تفصیلات سامنے آگئیں
پھول سنگھ برئیہ کی غیر سنجیدہ گفتگو
تفصیلات کے مطابق بھارتی سیاسی جماعت کانگریس کے ایم ایل اے پھول سنگھ برئیہ غیرسنجیدہ بیان دینے کے سبب کڑی تنقید کی زد میں آ گئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پھول سنگھ برئیہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران جنسی زیادتی جیسے سنگین جرم کو ذات اور مذہبی عقائد سے جوڑتے ہوئے انتہائی قابلِ اعتراض اور غیر سنجیدہ گفتگو کی۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم کا جو پنڈورا باکس کھولا گیا ہے، پیپلزپارٹی اس میں برابر کی شریک ہے، اسد قیصر
ان کے بیان کی تفصیلات
جنگ کے مطابق پھول سنگھ برئیہ نے چند طبقات کا نام لیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ مخصوص قبیلوں کی خواتین ریپ کا زیادہ شکار ہوتی ہیں اور اس کی وجہ قدیم مذہبی کتابوں میں درج ایک ’’غلط نظریہ‘‘ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی حقیقت دکھا دی، ایران کیساتھ ہونیوالے تمام مذاکرات محض پردہ تھے، میدویدیف کھل کر بول پڑے
احتجاج اور رد عمل
ان کے اس متنازع بیان پر بھارت کے متعدد حلقوں میں اس غیر سنجیدہ بیان پر شدید تنقید اور احتجاج کیا جا رہا ہے۔ پھول سنگھ کے بیان کی بھارتی سماجی تنظیموں نے بھی مذمت اور ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بی جے پی کا موقف
دوسری جانب بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی نے کانگریس کے رہنما کے اس بیان کو ’’مجرمانہ اور بگڑی ہوئی سوچ‘‘ قرار دیا ہے۔








