بھارتی سیاستدان نے ریپ جیسے سنگین جرم کو خواتین اور مذہبی عقائد سے جوڑ دیا، سماجی تنظیموں کا احتجاج
بھارتی سیاستدان کا متنازع بیان
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی سیاستدان نے ریپ جیسے سنگین جرم کو خواتین اور مذہبی عقائد سے جوڑ دیا، سماجی تنظیموں کا بیان پر شدید احتجاج، سخت کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: نااہلی اور بدعنوانی کے الزامات ثابت، سینئر سول جج مردان برطرف
پھول سنگھ برئیہ کی غیر سنجیدہ گفتگو
تفصیلات کے مطابق بھارتی سیاسی جماعت کانگریس کے ایم ایل اے پھول سنگھ برئیہ غیرسنجیدہ بیان دینے کے سبب کڑی تنقید کی زد میں آ گئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پھول سنگھ برئیہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران جنسی زیادتی جیسے سنگین جرم کو ذات اور مذہبی عقائد سے جوڑتے ہوئے انتہائی قابلِ اعتراض اور غیر سنجیدہ گفتگو کی۔
یہ بھی پڑھیں: قومی کرکٹ سلیکشن کمیٹی کی تبدیلی سے متعلق پی سی بی نے حتمی فیصلہ کرلیا
ان کے بیان کی تفصیلات
جنگ کے مطابق پھول سنگھ برئیہ نے چند طبقات کا نام لیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ مخصوص قبیلوں کی خواتین ریپ کا زیادہ شکار ہوتی ہیں اور اس کی وجہ قدیم مذہبی کتابوں میں درج ایک ’’غلط نظریہ‘‘ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں غلام بنانا قانونی قرار دیدیا گیا ۔۔۔ عدالتوں کے نئے فیصلے جاری، طالبان پر تنقید یا اختلاف کرنے والوں سے کیا سلوک کیا جائے گا؟ اہم تفصیلات جانیے۔
احتجاج اور رد عمل
ان کے اس متنازع بیان پر بھارت کے متعدد حلقوں میں اس غیر سنجیدہ بیان پر شدید تنقید اور احتجاج کیا جا رہا ہے۔ پھول سنگھ کے بیان کی بھارتی سماجی تنظیموں نے بھی مذمت اور ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بی جے پی کا موقف
دوسری جانب بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی نے کانگریس کے رہنما کے اس بیان کو ’’مجرمانہ اور بگڑی ہوئی سوچ‘‘ قرار دیا ہے۔








