انڈسٹری قبرستان میں تبدیل ہو رہی ہے، وینٹی لیٹر پر ہے اس کو بچا لیں: ایس ایم تنویر
انڈسٹری کے خطرات
گوجرانوالہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیر صنعت و تجارت ایس ایم تنویر نے کہا کہ انڈسٹری قبرستان میں تبدیل ہو رہی ہے، اور اس وقت انڈسٹری وینٹی لیٹر پر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انڈسٹری کو بچایا جائے، کیونکہ ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے فرار ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سجاد علی شاہ چیف جسٹس مقرر ہوئے تو شور مچ گیا سنیارٹی کو نظرانداز کیا گیا،اعلیٰ سطحی ڈیفنس کونسل کی تشکیل کا آئیڈیا وزیراعظم اور مشیروں کو پسند نہیں آیا
تاجروں کا خطاب
گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایم تنویر کا کہنا تھا کہ کاروباری حالات اور ملکی معیشت کو بزنس کمیونٹی ہی چلانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ تاجروں کی حیثیت سے حکومت کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اگر حکومت غلط کام کرے گی تو وہ اس پر بات کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے؟ تجزیہ نگار نے بتا دیا
بند ہوتے ٹیکسٹائل یونٹس
’’دنیا نیوز‘‘ کے مطابق، انہوں نے بتایا کہ پچھلے 2 برسوں میں 150 ٹیکسٹائل یونٹس بند ہو چکے ہیں۔ یونٹس قائم کرنے میں عام طور پر 3 نسلیں لگ جاتی ہیں، اور گوجرانوالہ کی تمام صنعت تباہی کے دھانے پر ہے۔ ورلڈ اکنامک گلوبل رسک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بے روزگاری میں اضافہ متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت میچ، محسن نقوی کی کھلاڑیوں اور مینجمنٹ سے ملاقات
سٹاک ایکسچینج کی صورتحال
انہوں نے کہا کہ سٹاک ایکسچینج کا چڑھ جانا اچھی بات ہے، لیکن اس سے تاجروں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ سٹاک ایکسچینج زیادہ چڑھ جاتی ہے، لیکن سرمایہ سارا دبئی جا رہا ہے۔ اصل کام یہ ہے کہ پیسہ ملک واپس لایا جائے۔ پچھلے سال میں 11.24 ٹریلین ٹیکس اکٹھا کیا گیا، جبکہ حکومت نے 8 ٹریلین ٹیکس سود میں دیا ہے، جو کہ 68 فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں بھی اپوزیشن لیڈر کی تقرری پر اتفاق ہوگیا
ٹیکس اور مختلف تجاویز
اس سال حکومت نے پچھلے سال سے زائد تین فیصد ٹیکس لینا ہے۔ ہم ٹیکس دینے کے خلاف نہیں ہیں، لیکن جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے ان سے وصولی ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ہمارا ملک ہے، اور ہم مل کر اسے ٹھیک کریں گے۔
وزیر اعظم سے مطالبات
’’24نیوز‘‘ کے مطابق، ایس ایم تنویر نے کہا کہ انڈسٹری وینٹی لیٹر پر ہے، اور وزیر اعظم سے درخواست کی کہ صنعتوں کو بچایا جائے۔ ساڑھے 10 فیصد شرح سود پر صنعتیں نہیں چل سکتیں، اور جون تک شرح سود کو 6 فیصد کیا جانا چاہیے۔ تنخواہ دار طبقے اور برآمدی شعبے کو ریلیف دینا چاہیے، اور ٹرن اوور ٹیکس ختم کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ بینک نان فائلرز کے لیے محفوظ پناہ گاہیں بن چکے ہیں۔








