فیشن ڈیزائنر ماریہ بی کا ایک بار پھر پاکستانی ڈراموں میں ٹرانس جینڈر کرداروں کی پیشکش پر سخت ردعمل
ماریہ بی کا ٹرانس جینڈر کرداروں پر شدید ردعمل
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے ایک بار پھر پاکستانی ڈراموں میں ٹرانس جینڈر کرداروں کی پیشکش پر سخت ردعمل دیا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ڈرامہ "میری زندگی ہے تو" کی ٹیم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ ڈراموں کے ذریعے خاموشی سے ایل جی بی ٹی کی سوچ کو فروغ دیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج، لاہور میں دوسرے روز بھی میٹرو بس سروس مکمل طورپربند
ڈرامہ "میری زندگی ہے تو" کی قسط 19 پر تنقید
ماریہ بی نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں ڈرامے کی قسط 19 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا "معیز بیٹا کیا یہ تم ہو؟"۔ انھوں نے کہا کہ ایک گرلز کالج کے سین میں ایک ایسا کردار دکھایا گیا جو بائیولوجیکلی مرد ہے لیکن خواتین کے درمیان موجود ہے، جس پر انہیں شدید اعتراض ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آج ملاقات نہ ہوئی تو حالات خراب ہوں گے اور اس کے ذمہ دار یہ خود ہوں گے، یہی پیغام آپ پہنچا دیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا ایس ایچ او سے مکالمہ
پاکستانی قوم کی آگاہی
ماریہ بی کے مطابق یہ ایک "چالاکی" تھی اور ڈرامہ سازوں نے سمجھا کہ عوام اس بات کو نوٹس نہیں کریں گے، مگر پاکستانی قوم نے یہ بات فوراً پہچان لی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹانک میں مسلح افراد کا گھر پر حملہ، 2 بھائیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
خواتین کے حقوق متاثر ہونے کا خدشہ
اپنے ویڈیو پیغام میں ماریہ بی نے سوال اٹھایا کہ کیا ڈرامہ سازوں کے پاس خواتین اداکاراؤں کی کمی تھی یا وہ جانتے بوجھتے ایک بائیولوجیکل مرد کو خواتین کی جگہ میں لے آئے؟ انہوں نے کہا کہ اس طرح خواتین کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں اور اداکاراؤں کے روزگار کو بھی خطرہ لاحق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پبلک سروس کمیشن نے تحریری اور حتمی نتائج کا اعلان کر دیا
خطرناک موضوعات کی عکاسی
ماریہ بی نے مزید کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک، خصوصاً امریکا میں، اس حوالے سے سنگین واقعات سامنے آچکے ہیں، اس لیے ایسے موضوعات کو معمول بنا کر پیش کرنا خطرناک ہے۔
سوشل میڈیا پر بالخصوص پذیرائی
سوشل میڈیا پر ماریہ بی کے اس مؤقف کو خاصی پذیرائی مل رہی ہے۔ کئی صارفین نے ان کے بیان کو "جرات مندانہ" قرار دیا، جبکہ کچھ سوشل میڈیا صارفین مخالفت کرتے بھی دکھائی دیئے۔








