ایرانی سپریم لیڈر نے ملک میں پرتشدد احتجاج کے دوران اموات اور نقصانات کے لیے امریکی صدر کو ذمہ دار قرار دے دیا
ایران کے سپریم لیڈر کا بیان
تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ملک میں پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
یہ بھی پڑھیں: اسد حکومت کا خاتمہ، اسرائیل کا تاریخ کا سب سے بڑا فضائی آپریشن، شام کے مزید علاقوں پر قبضہ، آرمی، فضائیہ اور بحریہ کو تباہ کرکے رکھ دیا
احتجاجی مظاہروں کی وجوہات
آیت اللہ خامنہ ای نے جاری بیان میں کہا کہ مظاہروں کے دوران ہونے والی اموات، نقصانات اور ایرانی عوام پر لگائے گئے بہتان کے لئے امریکی صدر ذاتی طور پر ذمہ دار ہیں اور حالیہ فسادات میں ملوث بھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مالی سال 2025: ٹی بلز سے غیر ملکی سرمایہ کاری کا اخراج ڈیڑھ ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا
نقصان اور متاثرین
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ سے تعلق رکھنے والوں نے مظاہروں میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے، اور ان مظاہروں میں کئی ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ایران کی حکمت عملی
انہوں نے واضح کیا کہ ہم ملک کو جنگ میں نہیں گھسیٹیں گے، لیکن ہم ملکی اور بین الاقوامی مجرموں کو سزا دیے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔








