وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو دھکے دے کر نہیں نکالا گیا، کچھ چیزیں طے ہوئی تھیں ان کی خلاف ورزی کی گئی، شرجیل میمن
شرجیل انعام میمن کی وضاحت
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو دھکے دے کر نہیں نکالا گیا، بلکہ بعض چیزیں طے شدہ تھیں جن کی خلاف ورزی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی ایک صوبے کے آئینی وزیراعلیٰ ہیں اور سندھ کی روایت کے مطابق انہیں عزت دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور نے عمران خان کو اپنی آنکھ عطیہ دینے کا اعلان کر دیا
ترقی کی ضرورت
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ منفی سوچ کے ساتھ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی کے لیے مثبت رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ سندھ حکومت سیلاب سے متاثرہ 21 لاکھ خاندانوں کو مفت رہائش فراہم کر رہی ہے، اور صوبے میں سائبر نائف کے علاج کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی بھارتی حملے کی شدید مذمت، پنجاب میں ایمرجنسی نافذ
ترقیاتی منصوبے
انہوں نے مزید کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے اور بڑی بیماریوں کا علاج بھی مفت کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شجاعت حسین سے جرمن سفیر کی ملاقات، دوطرفہ تجارت کیلئے عملی اقدامات پر زور
توانائی کی فراہمی
شرجیل میمن نے یہ بھی بتایا کہ تھر میں کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی پورے پاکستان کو فراہم کی جا رہی ہے، اور اس بجلی کے ذریعے دنیا کو دو صدیوں تک توانائی برآمد کی جا سکتی ہے۔
ایوان صدر کا کردار
شرجیل میمن نے ایوان صدر کو ملک کے تمام شہریوں کے لیے کھلا ایوان قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں مختلف ادارے اپنے پروگرام اور تقریبات منعقد کرتے ہیں۔
ایسے حالات کیوں بنے کہ سہیل آفریدی کو ویلکم کرنے کے بعد دھکے دے کر نکالا گیا؟
صحافی کا سوال
وزیراعلی کے پی کے سہیل افریدی کو دھکے دے کر نہیں نکالا گیا۔۔۔ کچھ چیزیں طے ہوئی تھیں ان کی خلاف ورزی کی گئی۔شرجیل میمن
سہیل آفریدی ایک صوبے کے آئینی وزیراعلیٰ ہیں۔۔۔ pic.twitter.com/GC0HOHzT5c— Exact Press International (@ExactPressIntl) January 17, 2026








