وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو دھکے دے کر نہیں نکالا گیا، کچھ چیزیں طے ہوئی تھیں ان کی خلاف ورزی کی گئی، شرجیل میمن
شرجیل انعام میمن کی وضاحت
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو دھکے دے کر نہیں نکالا گیا، بلکہ بعض چیزیں طے شدہ تھیں جن کی خلاف ورزی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی ایک صوبے کے آئینی وزیراعلیٰ ہیں اور سندھ کی روایت کے مطابق انہیں عزت دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ابھی تک رمضان پیکج سے متعلق کوئی آڈٹ رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کے علم میں نہیں آئی: عظمٰی بخاری
ترقی کی ضرورت
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ منفی سوچ کے ساتھ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی کے لیے مثبت رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ سندھ حکومت سیلاب سے متاثرہ 21 لاکھ خاندانوں کو مفت رہائش فراہم کر رہی ہے، اور صوبے میں سائبر نائف کے علاج کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بنگلہ دیش کے 1971 کے واقعات پر معافی اور معاوضے کے مطالبے کی خبروں پر رد عمل جاری کر دیا
ترقیاتی منصوبے
انہوں نے مزید کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے اور بڑی بیماریوں کا علاج بھی مفت کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزرائے داخلہ کا دورہ لاہور ایئرپورٹ، کسی کو بلاجواز نہیں روکا جائے گا: محسن نقوی
توانائی کی فراہمی
شرجیل میمن نے یہ بھی بتایا کہ تھر میں کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی پورے پاکستان کو فراہم کی جا رہی ہے، اور اس بجلی کے ذریعے دنیا کو دو صدیوں تک توانائی برآمد کی جا سکتی ہے۔
ایوان صدر کا کردار
شرجیل میمن نے ایوان صدر کو ملک کے تمام شہریوں کے لیے کھلا ایوان قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں مختلف ادارے اپنے پروگرام اور تقریبات منعقد کرتے ہیں۔
ایسے حالات کیوں بنے کہ سہیل آفریدی کو ویلکم کرنے کے بعد دھکے دے کر نکالا گیا؟
صحافی کا سوال
وزیراعلی کے پی کے سہیل افریدی کو دھکے دے کر نہیں نکالا گیا۔۔۔ کچھ چیزیں طے ہوئی تھیں ان کی خلاف ورزی کی گئی۔شرجیل میمن
سہیل آفریدی ایک صوبے کے آئینی وزیراعلیٰ ہیں۔۔۔ pic.twitter.com/GC0HOHzT5c— Exact Press International (@ExactPressIntl) January 17, 2026








