بڑھکیں مارنے کا شوق لے ڈوبا، حکومت کو رپورٹ بھجوائی ہے جا کر اپنے معاملات ٹھیک کریں، صورتحال آپکے حق میں نہیں،وہ اپنا سا منہ لے کر چلا گیا
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 412
تنخواہ سرکار کی ڈیوٹی وگار کی
میں واپس ہی جانے والا تھا کہ ایم پی اے بھی آ گیا۔ سیکرٹری بھی اس کے ساتھ تھا۔ اس نے اپنی شکایت پھر دھرائی جو وہ پہلے ہی لکھ چکا تھا۔ سیکرٹری سے پوچھا؛ ”وہ کیوں سائیٹ پر موجود نہ تھا؟“ اس کے پاس کوئی معقول جواب نہ تھا۔ ماسوائے کہ میرا خیال تھا ”آپ سائیں کے ڈیرے پر آئیں گے۔“ میں نے اسے کہا؛ ’اب کل تم میرے ڈیرے پر آنا اور اپنی معطلی کا حکم نامہ لے جانا۔“
ایم پی اے کہنے لگا؛ ”آپ نے پہلے بھی میرے ڈیرے پر نہ آ کر زیادتی کی ہے اور اب آپ میرے سیکرٹری کو میری موجودگی میں معطل کر رہے ہیں۔“ میں نے انہیں جواب دیا؛ ”واران صاحب! یہ سرکاری ملازم ہے۔ اسے سرکار کی ڈیوٹی پر حاضر رہنے کی ہی تنخواہ ملتی ہے آپ کے ڈیرے پر بیٹھنے کی نہیں۔“
واپس دفتر کی صورت حال
واپس دفتر پہنچا تو سورج ڈوب گیا تھا اور واران کا بھی۔ رپورٹ لکھی۔ ساتھ موقع کی تصاویر لگائیں۔ شام کو رپورٹ سمیت کمشنر کے کیمپ آفس گیا۔ انہیں ساری بات سنائی اور رپورٹ پیش کرتے کہا؛ ”سر! یہ بڑا کرپٹ انسان ہے۔ منصوبہ ٹھیک ہے کوئی ناقص میٹریل استعمال نہیں ہوا۔ برمز کچھ خراب تھے جنہیں ٹھیک کرنے کا کہہ آیا ہوں۔ البتہ اس کی عقل ناقص ہے۔“
اگلے روز وارن کمشنر دفتر گیا۔ کمشنر نے کہا؛ ”وارن صاحب! رپورٹ آ گئی ہے۔ منصوبہ بالکل ٹھیک ہے۔ کوئی ناقص میٹریل استعمال نہیں ہوا۔ منصوبہ آپ کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے۔ وجہ آپ کو بھی معلوم ہے۔ ویسے میں نے آپ کی سیاسی پوزیشن پر حکومت کو رپورٹ بھجوائی ہے۔ جا کر اپنے معاملات ٹھیک کریں۔ موجودہ صورت حال ہر گز آپ کے حق میں نہیں ہے۔“ وہ اپنا سا منہ لے کر چلا گیا۔
کچھ روز بعد کی ملاقات
کچھ روز بعد یہ صاحب میرے دفتر آیا۔ میں نے عامر کو بھی بلا لیا۔ کہنے لگا؛ ”کمشنر آپ کی بڑی تعریف کر رہے تھے۔ الیکشن کیسے جیتے جاتے ہیں؟ میں کتاب لکھ رہا ہوں۔ سی ایم (اس وقت خادم اعلیٰ وزیر اعلیٰ تھے) سے بھی بات ہوئی ہے۔” اسے بڑھکیں مارنے کا شوق تھا۔ یہی اسے لے ڈوبا۔ کتاب کہاں لکھنی تھی وہ تو ایک سطر نہیں لکھ سکتا تھا۔ خود ہی دوبارہ کسی دھول میں گم ہو گیا تھا۔
ڈرنگ سٹیڈیم کا ذکر
میری کچھ راہ ورسم اور بڑھی تو دوستی ڈویثرنل ڈائریکٹر سپورٹس مہر رشید سے ہو گئی۔ ساہی وال کر رہنے والا یہ سادہ اور دریش منش انسان کا دفتر ”ڈرنگ سٹیڈیم“ میں تھا۔ ہمیشہ مسکراتے چہرے سے ملتے۔ جلد ہی ان سے گوڑی دوستی ہو گئی تھی۔ ایک روز وہ تاریخی ڈرنگ سٹیڈیم لے گئے۔ نواب سر صادق خاں کا تعمیر کردہ کھیل کا یہ میدان اپنی وسعت، خوبصورتی اور سہولیات کے اعتبار سے تاریخی اور منفرد تھا۔ اس سٹیڈیم کی کرکٹ گراؤنڈ میں سردی کی دھوپ میں بیٹھ کر محسوس ہوتا کہ آپ ولایت کے کسی قدیم کرکٹ گراؤنڈ میں بیٹھے ”جنٹل مین“ کھیل کا مزا لے رہے ہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








